یوکرین کا ٹرمپ امن منصوبہ مسترد، زیلینسکی کا سخت ردِعمل؛ روس نے خیرمقدم کر دیا
یوکرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے روسی مطالبات کی حمایت قرار دے دیا ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا کہ وہ ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کریں گے جو یوکرین کے مفادات کے خلاف ہو اور ریاستی خودمختاری پر سمجھوتہ کرے۔
زیلینسکی کے مطابق امریکی منصوبے میں یوکرین کے لیے ’’زمین چھوڑنے‘‘، ’’فوج میں کمی‘‘ اور ’’نیٹو میں شمولیت نہ کرنے‘‘ جیسی شرائط شامل ہیں، جنہیں انہوں نے ناقابلِ قبول قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین اپنی سرزمین اور سلامتی سے متعلق کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔
اس کے برعکس روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے مستقبل کے حتمی امن معاہدے کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ پیوٹن نے خبردار کیا کہ اگر یوکرین مذاکرات سے پیچھے ہٹا تو روس مزید علاقے اپنے کنٹرول میں لے سکتا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لائن نے بھی منصوبے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے بغیر اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہونا چاہیے، اور یورپی اتحادی اس معاملے میں یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اسی صورتحال میں یوکرینی وزیر خارجہ آندری سبیہا نے برطانیہ، فرانس اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کرکے آئندہ حکمتِ عملی پر مشاورت کی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو امن معاہدہ قبول کرنے کے لیے ایک ہفتے کی ڈیڈلائن مقرر کر رکھی ہے۔ منصوبے کے مطابق روس کو نئے علاقے، عالمی معیشت میں شمولیت اور جی-8 گروپ میں واپسی کے مواقع مل سکتے ہیں۔