جنوبی افریقا میں جی ٹوئنٹی اجلاس آج شروع، دنیا کی بڑی قیادت جوہانسبرگ میں جمع

0

جنوبی افریقا میں جی ٹوئنٹی اجلاس آج جوہانسبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں عالمی رہنما بڑے سیاسی اور معاشی معاملات پر گفتگو کریں گے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ اور فرانس کے صدور، برطانوی وزیراعظم اور یورپی یونین کی سربراہ سمیت مختلف ممالک کی اعلیٰ قیادت جوہانسبرگ پہنچ چکی ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی وزیراعظم بھی اجلاس میں شریک ہوں گے، تاہم امریکہ نے رواں سال کے جی ٹوئنٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی جنوبی افریقا میں اجلاس کے انعقاد پر بائیکاٹ کا اعلان کر چکے ہیں۔ جی ٹوئنٹی ممالک دنیا کی مجموعی جی ڈی پی کے تقریباً 85 فیصد اور عالمی آبادی کے دو تہائی حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ادھر روس یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکہ کے مجوزہ 28 نکاتی امن منصوبے نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق یہ منصوبہ امریکہ اور روس کے درمیان طے کردہ ایک ابتدائی فریم ورک پر مشتمل ہے جس میں یوکرین سے ہتھیار کم کرنے اور روس کے زیرِقبضہ علاقوں سے دستبرداری کی تجاویز شامل ہیں۔ منصوبے کا باضابطہ اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا۔

رائٹرز کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے منصوبے سے متعلق یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو ٹرمپ کے ایلچی کے ذریعے آگاہ کیا ہے، جبکہ فنانشل ٹائمز کے مطابق منصوبہ روس کے لیے زیادہ سازگار تصور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ ڈھانچے کے تحت روس کو مشرقی یوکرین کے کچھ علاقے ملیں گے، جبکہ بدلے میں امریکہ سیکیورٹی کی ضمانت فراہم کرے گا۔ اس امن منصوبے کی تیاری میں دیگر ممالک شامل نہیں، اور اسے صرف امریکی و روسی حکام نے تیار کیا ہے۔

یوکرین نے منصوبے کے ابتدائی مسودے کی وصولی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کو مدِنظر رکھتے ہوئے متبادل تجاویز پیش کرے گا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.