روس کا ٹرمپ کے 28 نکاتی امن منصوبے سے اصولی اتفاق، یوکرین کی مخالفت پر پیش رفت رک گئی: صدر پیوٹن
ماسکو میں سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے اجلاس کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے انکشاف کیا ہے کہ روس نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے 28 نکاتی امن منصوبے پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا تھا، تاہم یوکرین کی مخالفت کے باعث امریکا نے پیش رفت روک دی ہے۔ چیئر آف فیڈریشن کی سربراہ ویلنٹینا ماتویینکو کے سوال کے جواب میں پیوٹن نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ نے روس سے لچک دکھانے کی درخواست کی تھی اور روس نے تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے اپنا مثبت مؤقف واضح کر دیا تھا۔
پیوٹن کے مطابق ٹرمپ کا امن منصوبہ الاسکا میں ہونے والی ملاقات سے قبل بھی زیر غور تھا، جب کہ ملاقات میں روس نے دوبارہ اس سے اتفاق کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ روس نے چین، بھارت، برازیل، جنوبی افریقہ، کوریا اور او ڈی کے بی کے شراکت دار ممالک کو مکمل اعتماد میں لیا تھا اور تمام اتحادی ممالک نے مجوزہ معاہدے کی حمایت کی۔
روسی صدر نے الزام عائد کیا کہ امریکی انتظامیہ نے مذاکرات میں خاموشی اس وجہ سے اختیار کر رکھی ہے کہ یوکرین اس منصوبے کو منظور کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق یوکرین اور اس کے یورپی اتحادی اب بھی روس کو اسٹریٹیجک شکست دینے کے حوالے سے غلط فہمیوں کا شکار ہیں اور زمینی حقائق کا ادراک نہیں رکھتے۔ پیوٹن نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 4 نومبر کو یوکرین نے کوپیانسک میں صرف 60 روسی فوجیوں کی موجودگی کا دعویٰ کیا، جبکہ شہر اس وقت مکمل طور پر روس کے کنٹرول میں تھا اور محدود کلیئرنس آپریشن جاری تھا۔
پیوٹن نے خبردار کیا کہ اگر یوکرین ٹرمپ منصوبے کو قبول نہیں کرتا تو اسی نوعیت کے واقعات دیگر محاذوں پر بھی سامنے آ سکتے ہیں، تاہم انہوں نے ایک بار پھر روس کی امن مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی، بشرطیکہ تمام نکات پر عملی گفتگو شروع کی جائے۔ اجلاس کے اختتام پر صدر نے 2026 میں روس کی او ڈی کے بی چیئرمین شپ اور نیو کولونیلزم کے خلاف حکمت عملی سے متعلق پالیسی نکات پر بھی بات کی۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین میں امن سے متعلق امریکی تجویز کردہ 28 نکاتی منصوبے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطوں کی نوعیت اور سطح کا ابھی تعین نہیں کیا جا سکا۔ ان کے مطابق صدر پیوٹن اور صدر ٹرمپ کے درمیان مذاکرات کی ضرورت اور طریقہ کار پر بھی ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔