نائجیریا میں کیتھولک اسکول پر بڑا مسلح حملہ؛ 303 طلبا اور 12 اساتذہ اغوا، سیکیورٹی انتظامات پر سوالات

0

نائجیریا کی ریاست نائجر میں سینٹ میریز کیتھولک اسکول پر مسلح افراد نے دھاوا بول کر 303 طلبا اور 12 اساتذہ کو اغوا کر لیا، واقعے کے بعد ملک میں سیکیورٹی انتظامات پر شدید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق پاپیری قصبے کے رہائشیوں نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد علاقہ خوف اور افراتفری کا شکار تھا، والدین اپنے لاپتا بچوں کی تلاش میں دیوانہ وار دوڑتے رہے۔

اغوا شدگان میں شامل متعدد بچے 7 سے 10 سال کی عمر کے ہیں۔ 62 سالہ داودا چیکولا نے الجزیرہ کو بتایا کہ ان کے چار پوتے پوتیاں لاپتا ہیں، انہیں معلوم نہیں کہ بچے کہاں اور کس حالت میں ہیں۔ بعض بچے حملے کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تاہم وہ بھی بکھر گئے۔

ریاست نائجر کی حکومت نے اعتراف کیا کہ اس علاقے سے متعلق پہلے ہی سیکیورٹی خطرات کے انتباہ جاری کیے گئے تھے۔ حکومتی بیان کے مطابق اسکول انتظامیہ نے سرکاری اجازت کے بغیر تدریسی سرگرمیاں بحال کرکے طلبا اور اساتذہ کو غیر ضروری خطرے میں ڈالا۔ ادھر کرسچین ایسوسی ایشن آف نائیجیریا نے تصدیق کی ہے کہ اغوا ہونے والوں کی تعداد ابتدائی اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق سینٹ میریز اسکول ایک وسیع کمپلیکس ہے جس میں پرائمری اور سیکنڈری سطح کی 50 سے زائد عمارتیں شامل ہیں۔ چند روز قبل ریاست کیبی کے قصبے ماگا میں بھی ایک اسکول سے 25 طالبات اغوا کی گئی تھیں جن میں سے ایک لڑکی فرار ہو گئی تھی۔ ان واقعات کی تا حال کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم ماضی میں ایسے حملوں میں بوکو حرام ملوث رہی ہے۔

سیکیورٹی فورسز اور مقامی شکاری گروہوں کو بچوں کی تلاش کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔ دو روز قبل ایک کیتھولک چرچ پر حملے میں دو افراد ہلاک اور متعدد اغوا کیے گئے تھے، جس کے بعد نائجیریا کے صدر جنوبی افریقہ کی سمٹ ادھوری چھوڑ کر ملک واپس آئے اور ہنگامی سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کی۔ تاہم اجلاس کے فوراً بعد ایک اور بڑے حملے نے حکومتی صلاحیت پر سوالات بڑھا دیے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نائیجیریا میں مسیحیوں کے مبینہ قتلِ عام پر فوجی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں، جسے نائجیریا نے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلح حملوں میں سب سے زیادہ مسلم آبادی متاثر ہوتی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.