جنوبی افریقہ میں جی 20 سربراہی اجلاس کا اعلامیہ متفقہ منظور، امریکہ کا بائیکاٹ
جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس نے موسمیاتی بحران اور دیگر عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اعلامیہ منظور کر لیا، جس کا مسودہ امریکی شمولیت کے بغیر تیار کیا گیا۔ واشنگٹن کی جانب سے اعلامیے میں شامل بعض نکات پر اعتراض کے باوجود دستاویز میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔
جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے ترجمان نے بتایا کہ اعلامیہ میں وہ تمام نکات شامل ہیں جن پر پورا سال تفصیلی کام کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کی مخالفت کے باوجود متن میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، جو پریٹوریا اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان سفارتی تناؤ کی علامت ہے۔
ذرائع کے مطابق جی 20 کے ایلچیوں نے جمعہ کے روز امریکی نمائندگی کے بغیر اعلامیے کا مسودہ حتمی شکل دی۔ مسودے میں موسمیاتی تبدیلی کی سنگینی، اس کے اثرات سے نمٹنے کی ضرورت، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کے بوجھ میں کمی جیسے نکات شامل کیے گئے۔ یہ نکات وہ ہیں جن پر ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے سے اعتراض کرتی رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ موسمیاتی تبدیلی کے سائنسی اتفاقِ رائے پر شکوک کا اظہار کرتے رہے ہیں اور ان کے حکام نے عندیہ دیا تھا کہ وہ اعلامیے میں اس حوالے کی مخالفت کریں گے۔ وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر فوری ردِعمل دینے سے گریز کیا۔
افتتاحی خطاب میں صدر رامافوسا نے کہا کہ اجلاس کے اعلامیے پر “زبردست اتفاق رائے” موجود ہے اور اسے سربراہی اجلاس کی کامیابی کے طور پر دیکھا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ امریکہ نے جنوبی افریقہ میں سفید فام کسانوں کے خلاف مبینہ نسل کشی جیسے بے بنیاد دعوؤں پر تنقید کرتے ہوئے اجلاس میں شرکت سے انکار کیا، جو کہ پہلے بھی جنوبی افریقہ کی تردید کے باوجود امریکی صدر کا مؤقف رہا ہے۔
امریکی بائیکاٹ کے جواب میں جنوبی افریقہ کے وزیر خارجہ رونالڈ لامولا نے کہا کہ "کثیرالجہتی پلیٹ فارم کسی ایک ملک کی عدم شرکت سے یرغمال نہیں ہو سکتا”۔ انہوں نے واضح کیا کہ جی 20 کے تمام اراکین برابر ہیں اور فیصلے ان ممالک نے کرنے ہیں جو اجلاس میں موجود ہیں۔
اجلاس میں یورپی یونین کی کمیشنر اُرسولا وان ڈیر لیئین نے بھی اپنے خطاب میں عالمی سطح پر اقتصادی انحصار کو "ہتھیار” بنانے کے رجحان پر تشویش ظاہر کی، جو چین کی برآمدی پابندیوں کی جانب اشارہ تھا۔
جنوبی افریقہ نے امریکہ کی جانب سے اجلاس میں جونیئر سفارتکار بھیجنے کی پیشکش بھی مسترد کر دی۔ ایوانِ صدر کے ترجمان ونسنٹ میگونیا نے کہا کہ جی 20 کی صدارت کسی کم درجے کے اہلکار کے حوالے کرنا پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے، اس لیے اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔
امریکہ 2026 میں جی 20 کی میزبانی کرے گا، جبکہ جنوبی افریقہ نے واضح کیا کہ وہ صدارت ایک “خالی کرسی” کو منتقل نہیں کر سکتا۔