امریکہ کی جانب سے غزہ میں ’متبادل محفوظ کمیونٹیز‘ کی تجویز—نیویارک ٹائمز

0

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کے زیرِ کنٹرول غزہ کے حصوں میں تیزی سے رہائشی کمپاؤنڈز تعمیر کرنے کی وکالت کر رہی ہے، جنہیں وہاں کے بے گھر اور متاثرہ فلسطینیوں کے لیے ’’متبادل محفوظ کمیونٹیز‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ پٹی میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

امریکی اخبار نے 20 سے زائد اہلکاروں سے کیے گئے انٹرویوز کے حوالے سے بتایا کہ ہر کمپاؤنڈ میں 20 ہزار سے 25 ہزار غزہ باشندوں کو رہائش دی جا سکے گی۔ ان کمپاؤنڈز میں عارضی رہائشی ڈھانچوں کے ساتھ طبی مراکز اور تعلیمی سہولیات بھی شامل ہوں گی۔

اس منصوبے کی نگرانی کرنے والے ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر اہلکار آریہ لائٹ اسٹون نے کہا کہ فوری ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کو جلد از جلد محفوظ رہائش مہیا کی جائے۔ ان کے مطابق یہ تجویز اسی ضرورت کو پورا کرنے کا ایک عملی طریقہ ہے۔

تاہم رپورٹ میں متعدد سوالات اور تحفظات بھی سامنے آئے ہیں—
● یہ واضح نہیں کہ کتنے فلسطینی ان کمپاؤنڈز میں منتقل ہونا چاہیں گے۔
● رہائش کی مجموعی گنجائش غزہ کے تقریباً 20 لاکھ آبادی کے مقابلے میں محدود ہو گی۔
● منصوبے کی مالی اعانت کس طرح کی جائے گی، اس پر بھی غیر یقینی برقرار ہے۔
● حکام نے تشویش ظاہر کی ہے کہ کیا فلسطینی رہائشی بعد میں آزادانہ نقل و حرکت کر سکیں گے یا اسرائیل سیکورٹی جانچ کی بنیاد پر کچھ افراد کو روک سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی ابتدائی معلومات ٹائمز آف اسرائیل نے نومبر کے اوائل میں شائع کی تھیں، جب عرب سفارت کاروں نے بتایا تھا کہ ممکنہ خلیجی ممالک کو ایک تجویز دی گئی ہے جس کے تحت غزہ کے مشرقی حصے میں کئی رہائشی زون قائم کیے جائیں گے—یہ علاقہ اس وقت اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔

امریکی حکام اس منصوبے کو بعض اوقات ’’نیا غزہ‘‘ بھی قرار دیتے ہیں، جسے یلو لائن کے مشرقی جانب قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے—یعنی وہ نیا حدِ فاصل جہاں سے اسرائیلی افواج نے 10 اکتوبر کو جنگ بندی معاہدے کے بعد پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا تھا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.