مغربی افریقی ملک گنی بساؤ میں فوجی بغاوت، صدر معزول، سرحدیں بند اور کرفیو نافذ
مغربی افریقہ کے ملک گنی بساؤ میں فوجی افسران کے ایک گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں اقتدار سنبھال لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدارتی انتخابات کے سخت مقابلے کے بعد عبوری نتائج کا اعلان ہونے والا تھا، اور ملک پہلے ہی سیاسی تناؤ کا شکار تھا۔
سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کیے گئے بیان میں فوجی افسران نے کہا کہ انہوں نے صدر اومارو سسکو ایمبالو کو معزول کر دیا ہے، انتخابی عمل کو معطل کر دیا گیا ہے، ملک کی تمام سرحدیں بند کر دی گئی ہیں اور فوری طور پر کرفیو نافذ کیا جائے گا۔ فوجی گروپ کے مطابق اعلیٰ عسکری کمان تشکیل دے دی گئی ہے جو تا حکمِ ثانی ملک کا انتظام سنبھالے گی۔
فوجی اعلان سے کچھ دیر قبل الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر، صدارتی محل اور وزارتِ داخلہ کے قریب فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جو تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہیں، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ الیکشن کمیشن نے 23 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے عبوری نتائج آج جاری کرنا تھے، جن میں صدر ایمبالو کا مقابلہ اُن کے حریف فرننڈو ڈیاس سے تھا۔ دونوں امیدوار پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں اپنی جیت کا دعویٰ کر چکے تھے۔
صدر ایمبالو دوسری مدت کیلئے دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور ملک کی تاریخ میں لگاتار دو بار صدر منتخب ہونے والے پہلے رہنما بننے کی امید رکھتے تھے۔ دوسری جانب، صدر کے ترجمان انتونیو یایا سیدے نے الزام لگایا کہ انتخابی نتائج روکنے کیلئے الیکشن کمیشن پر حملہ فرننڈو ڈیاس کے حامیوں نے کیا، تاہم اس دعوے کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔ ڈیاس کے ترجمان کی جانب سے فوری ردعمل نہیں آیا۔
گنی بساؤ پرتگال سے 1974 میں آزادی کے بعد سے اب تک کم از کم 9 فوجی بغاوتوں اور بغاوت کی کوششوں کا سامنا کر چکا ہے، اور موجودہ کشیدگی نے ایک بار پھر ملک کو سیاسی غیر یقینی کی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔