افغانستان سے ڈرون حملے پر تاجکستان کا شدید ردعمل، برادر اسلامی ممالک سے نوٹس لینے کا مطالبہ
دوشنبہ — تاجکستان نے افغانستان سے ہونے والے ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں تین چینی شہری ہلاک ہوئے۔ حملہ آوروں نے نجی کمپنی "شوہین ایس ایم” کے کیمپ کو نشانہ بنایا، اور حملے میں اسلحہ اور گرینیڈ سے لیس ڈرون استعمال کیے گئے۔
تاجک وزارت خارجہ کے اعلامیے کے مطابق، ضلع ختلان میں واقع کیمپ پر حملہ خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ تاجکستان نے افغان طالبان رجیم سے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے، سرحدی تحفظ یقینی بنانے اور دہشت گرد گروہوں کو سرگرمیوں سے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید برادر اسلامی ممالک، بشمول کویت، اردن، لبنان، عراق اور عمان میں تاجک سفارتخانوں نے بھی واقعے پر مذمتی بیانات جاری کیے ہیں۔ تاجکستان کا موقف ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں اور اس حملے کے ذریعے امن بگاڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔