پیوٹن کی امن تجاویز پر مشروط آمادگی، کسی یورپی ملک پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی

یوکرینی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ امریکا اور یوکرین کے درمیان زیرِ بحث امن تجاویز یوکرین تنازع کے پائیدار حل اور مستقبل کے ممکنہ امن معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہیں، تاہم اگر یہ تجاویز عملی شکل اختیار نہ کر سکیں تو روس جنگ جاری رکھے گا۔ بشکیک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ اب تک ہونے والی بات چیت کسی باضابطہ معاہدے سے متعلق نہیں بلکہ مسائل کے حل کے لیے ابتدائی نوعیت کی رہی۔

ادھر یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین اور امریکی نمائندوں کے درمیان ملاقات رواں ہفتے جنیوا میں ہوگی، جس میں امن معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ ملاقات اس تناظر میں اہمیت رکھتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ماسکو جا کر صدر پیوٹن سے امن فارمولے پر بات چیت کرنے کی ہدایت کی تھی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق 28 نکاتی امن منصوبے کا ابتدائی مسودہ امریکا نے تیار کیا تھا، جسے دونوں اطراف سے ملنے والی تجاویز کی روشنی میں اپ ڈیٹ کیا جا چکا ہے۔ اس منصوبے کو موجودہ جنگ بندی اور تنازع کے مستقل حل کے لیے بنیادی دستاویز تصور کیا جا رہا ہے۔

اپنی گفتگو میں صدر پیوٹن نے یورپ کے حوالے سے بھی اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ روس کا کسی یورپی ملک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، اور وہ یورپ کو اس حوالے سے تحریری ضمانت دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان کے مطابق بعض یورپی رہنما سیاسی فوائد حاصل کرنے اور دفاعی صنعتوں کو تقویت دینے کے لیے حملے کے خدشات کو بلاجواز طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یورپ پر حملے کے دعووں کو ’’حماقت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات دینے والے یا تو ’’نااہل‘‘ ہیں یا ’’بددیانت‘‘۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے