کارنی حکومت کا متنازعہ تیل پائپ لائن معاہدہ—کینیڈین وزیر اسٹیون گیلبیولٹ نے استعفیٰ دے دیا

0

ٹورنٹو — کینیڈا میں وفاقی حکومت اور صوبہ البرٹا کے درمیان ایک نئے بھاری تیل کی پائپ لائن کے مجوزہ منصوبے پر شدید سیاسی ہلچل پیدا ہوگئی ہے، جب وزیر ثقافت اور سابق ماحولیاتی وزیر اسٹیون گیلبیولٹ نے منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے کابینہ سے فوری استعفیٰ دے دیا۔

وزیراعظم مارک کارنی نے جمعرات کو البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کے ساتھ توانائی کے ایک بڑے معاہدے کا اعلان کیا، جس کے مطابق صوبے کی تیل کی ریت (Oil Sands) سے پیسفک ساحل تک نئی تیل پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر پیش رفت کی جائے گی۔ وزیراعظم نے اسے ’’البرٹا اور کینیڈا دونوں کے لیے تاریخی دن‘‘ قرار دیا، تاہم اعلان کے چند گھنٹوں کے اندر ہی حکومتی صفوں میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔

گیلبیولٹ کا مستعفی ہونے کا فیصلہ — “میری اقدار اجازت نہیں دیتیں”

اسٹیون گیلبیولٹ نے اپنے استعفیٰ کے اعلان میں کہا کہ:

  • اس منصوبے پر برٹش کولمبیا حکومت اور فرسٹ نیشنز سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی؛

  • پائپ لائن گریٹ بیئر رین فاریسٹ جیسے حساس ماحول سے گزرے گی، جس سے بڑے ماحولیاتی نقصانات کا خطرہ ہے؛

  • منصوبہ کینیڈا کے گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کے اہداف سے متصادم ہے؛

  • پیسفک کے نازک ساحلی علاقوں میں آئل ٹینکرز کی آمد و رفت سے حادثات کے خدشات کئی گنا بڑھ جائیں گے۔

ماحولیاتی وکیل اور سابق کارکن رہ چکے گیلبیولٹ نے کہا کہ وہ ایک ایسے منصوبے کا حصہ نہیں رہ سکتے جو سائنسی اصولوں، ماحول اور مقامی برادریوں کے حقوق کے خلاف ہو۔

پروجیکٹ کو سخت عوامی اور مقامی مخالفت کا سامنا

اگرچہ کارنی حکومت اس منصوبے کو ’’صنعتی تبدیلی‘‘ کا اہم حصہ قرار دے رہی ہے، لیکن حقائق یہ ہیں کہ:

  • کسی کمپنی نے اب تک پائپ لائن کی حمایت میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

  • برٹش کولمبیا حکومت نے منصوبے کی واضح مخالفت کی ہے۔

  • فرسٹ نیشنز نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ساحل پر تیل کے ٹینکرز کی اجازت کبھی نہیں دیں گے۔

کوسٹل فرسٹ نیشنز (CFN) کے صدر مارلن سلیٹ نے کہا “یہ پائپ لائن منصوبہ ہماری زمین، سمندر اور قانون کے منافی ہے۔ ہم اپنے ساحل پر کبھی تیل کے ٹینکرز نہیں آنے دیں گے۔”

البرٹا–اوٹاوا تعلقات میں بڑی پیش رفت، لیکن خطرات برقرار

یہ معاہدہ دراصل وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی میں ’’ڈرامائی تبدیلی‘‘ کی علامت ہے۔ البرٹا کو شکایت تھی کہ اوٹاوا کی کاربن پالیسیوں نے اس کی اقتصادی صلاحیت کو محدود کیا۔

نئے معاہدے کے تحت:

  • پائپ لائن کو اخراج کی حد اور ساحلی آئل ٹینکر پابندی سے استثنیٰ ملے گا؛

  • البرٹا اپنی کاربن پرائسنگ بڑھانے اور کاربن کیپچر منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کا پابند ہوگا۔

تاہم، بی سی حکومت کی شدید مخالفت، فرسٹ نیشنز کے قانونی اختیارات، ماحولیاتی رسک اور کسی بھی نجی حامی کی عدم موجودگی کے باعث یہ منصوبہ ابھی سے ’’متنازعہ اور غیر یقینی‘‘ دکھائی دے رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.