بھارتی ریاست آسام میں ایک سے زائد شادی پر پابندی کا متنازع قانون منظور
بھارتی ریاست آسام کی اسمبلی نے ایک ایسا قانون منظور کر لیا ہے جسے مختلف حلقوں میں مسلم مخالف اور مذہبی آزادی پر قدغن قرار دیا جا رہا ہے۔ نئے قانون کے تحت ایک سے زائد شادی کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔
قانون کے مطابق پہلی شادی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنے پر سات سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جبکہ پہلی بیوی کی اجازت نہ لینے کی صورت میں یہ سزا مزید بڑھ سکتی ہے۔ پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے والے افراد کو دس سال تک قید کا سامنا ہو سکتا ہے، اور جرم دہرانے کی صورت میں سزا دگنی ہو جائے گی۔
قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ دوسری شادی کرنے یا کروانے والے افراد سرکاری ملازمت یا مقامی حکومت کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اسی طرح اس عمل میں معاونت کرنے والے، مثلاً گاؤں کے سرپنچ، مذہبی رہنما، والدین یا سرپرست کو بھی دو سال تک قید اور ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔
بل میں غیر قانونی شادی کا نشانہ بننے والی خواتین کے لیے معاوضے اور قانونی تحفظ کی شق بھی شامل ہے۔
وزیراعلیٰ آسام نے قانون کی منظوری کے بعد کہا کہ یہ اقدام کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ معاشرے میں ازدواجی ذمہ داریوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق ترکیہ سمیت کئی ممالک میں بھی ایک سے زائد شادی پر پابندی عائد ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون ذاتی آزادی اور مذہبی روایات کی خلاف ورزی ہے، خصوصاً ان علاقوں اور کمیونٹیز میں جہاں ایک سے زائد شادی کی اجازت مذہبی یا روایتی طور پر موجود ہے۔ جبکہ کچھ مخصوص قبائل، نسلی گروہوں اور خود مختار علاقوں کو اس قانون سے جزوی استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔