تیونس میں اپوزیشن رہنماؤں اور میڈیا شخصیات کے خلاف کریک ڈاؤن؛ عدالت نے 40 افراد کو طویل قید کی سزائیں سنادیں
تیونس میں اپوزیشن رہنماؤں، کاروباری شخصیات اور حکومت مخالف میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران عدالت نے 40 افراد کو 5 سے 45 سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ان میں سے 20 افراد بیرون ملک جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں جنہیں عدم موجودگی میں سزا سنائی گئی۔
یہ مقدمہ، جو ’’ریاست کی سلامتی کے خلاف سازش‘‘ کے نام سے مشہور ہے، ایک بار پھر عالمی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے فیصلے کو شفافیت سے عاری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی کارروائی میں سنگین بے ضابطگیاں اور حکومتی مداخلت واضح طور پر دیکھی گئی۔
سزا پانے والوں میں معروف اپوزیشن رہنما خیام ترکی، جوہر بن مبارک، عصام شبعی، غازی شواعشی، رضا بلحاج اور عبدالحمید جلاصی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نورالدین بحیری، صاحبی عتیق اور سعید الفرجانی کو بھی قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
جلاوطن رہنماؤں میں سب سے نمایاں نام انسانی حقوق کی معروف کارکن بشرہ بلحاج حمیدہ کا ہے جنہیں عدالت نے 33 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلے تیونس کی سیاسی صورتحال اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے مزید سوالات اٹھا رہے ہیں۔