بھارت میں ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک میں اضافہ، پریس ٹی وی کی رپورٹ

0

اسلام آباد – بھارت میں آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے اور مودی سرکار کی متعصبانہ پالیسیوں کے زیرِ اثر مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، نفرت اور منظم استحصال کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پریس ٹی وی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں مسلمانوں کو مذہبی، سماجی اور معاشی سطح پر دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ اس صورتحال کو روکنے کے لیے حکومتی سطح پر کوئی مؤثر اقدام سامنے نہیں آ رہا۔

مہاراشٹرا میں تین مسلمان طلبہ کو کلاس روم میں نماز پڑھنے پر ہراساں کیا گیا اور زبردستی مورتی کے سامنے جھکنے اور بیٹھک لگانے پر مجبور کیا گیا، جسے مذہبی آزادی کی واضح خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح تاج محل کے قریب ایک 64 سالہ مسلم ٹیکسی ڈرائیور کو دو نوجوانوں نے روک کر "جے شری رام” کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔

رپورٹ کے مطابق بریلی میں ایک مسلمان شہری کی دو منزلہ مارکیٹ کو ’غیر قانونی‘ قرار دے کر مسمار کر دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق مسلمانوں یا ان کے حامیوں کی جائیدادیں گرانا بھارت میں ایک تشویشناک رجحان بنتا جا رہا ہے، جس کا مقصد انہیں معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔

مزید برآں، احتجاج یا حقوق کے استعمال پر مسلمانوں کی بغیر مناسب قانونی کارروائی کے گرفتاری کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ دائیں بازو کے انتہاپسند گروہ کھلے عام نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کی دھمکیاں دیتے ہیں، تاہم حکومتی ادارے اور مرکزی دھارا میڈیا اس حوالے سے اکثر خاموش رہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی سوشل میڈیا پر بھی انتہاپسند عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی میں تیزی دیکھنے میں آتی ہے، جس کے باعث فرقہ وارانہ کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں مذہبی عدم برداشت، اقلیت دشمنی اور نفرت کا بڑھتا ہوا رجحان وزیراعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کے نظریات کی عکاسی کرتا ہے، جو ملک کی مذہبی ہم آہنگی اور سماجی امن کے لیے شدید خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.