فلسطینی دھڑوں کا ثالثوں پر اعتماد متزلزل، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں مسلسل اضافہ

0

حماس اور جنگ بندی مذاکرات میں شامل دیگر فلسطینی دھڑوں نے کہا ہے کہ اسرائیل پر جنگ بندی کا احترام یقینی بنانے کے لیے ثالث ممالک کی مؤثر صلاحیت پر ان کا اعتماد تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 10 اکتوبر کو لڑائی رکنے کے بعد سے اسرائیلی خلاف ورزیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسرائیل کسی حقیقی بازپرس کے بغیر اپنے فیصلے خود نافذ کر رہا ہے۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی اقدامات اس تاثر کو مضبوط کر رہے ہیں کہ وہ کسی بھی وعدے یا معاہدے کا پابند نہیں رہنا چاہتا، جبکہ ثالث اس صورتحال پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ دھڑوں نے اعتراف کیا کہ عوامی دباؤ کے باوجود اس وقت عسکری جواب دینا ممکن نہیں، کیونکہ اس سے غزہ دوبارہ تباہ کن جنگ کی طرف جا سکتا ہے جس کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔ تاہم فلسطینی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیلی حملوں کو قبول کرنے کے مترادف نہیں، نہ ہی غزہ کو کھلی جنگ کا میدان بننے دیا جا سکتا ہے۔

ایک ذریعے نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل جان بوجھ کر مزاحمت کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ حالات دوبارہ ابتدائی سنگین مرحلے پر لوٹ جائیں، جس سے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی سیاسی پوزیشن مستحکم ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل امریکی دباؤ میں اتار چڑھاؤ کا فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنی پالیسی سخت یا نرم کرتا رہتا ہے۔

ذرائع کے مطابق حماس نے ثالثوں کو آگاہ کیا ہے کہ اسے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر آگے بڑھنے میں کوئی اعتراض نہیں، مگر اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مستقبل، مسلح گروہوں کے کردار اور آئندہ حکمرانی کے معاملات سے متعلق نئی شرائط پیش کر کے پیش رفت روکی جا رہی ہے۔ تعمیر نو کو بھی انہی سیاسی مطالبات سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حماس غزہ اور مزاحمت کے مستقبل پر قومی اتفاقِ رائے چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے فتح، فلسطینی اتھارٹی اور دیگر تمام دھڑوں کی شمولیت کے ساتھ ایک قومی مشاورت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ توقع ہے کہ اس پر جلد قاہرہ میں دوبارہ غور کیا جائے گا، اگرچہ فتح کی شرکت غیر یقینی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اگلے مرحلے میں نہیں جائے گا جب تک غزہ میں موجود دو باقی ماندہ اسرائیلی اسیروں کی لاشیں واپس نہ مل جائیں۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق حالیہ اسرائیلی کارروائیوں اور بمباری کے باعث باقیات تک رسائی مزید مشکل ہو گئی ہے۔

ہفتے کے اختتام پر بھی اسرائیلی خلاف ورزیاں جاری رہیں۔ خان یونس کے علاقے بنی سہیلہ میں دو فلسطینی بھائیوں کو اسرائیلی ڈرون نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ’پیلی لکیر‘ کے قریب لکڑیاں جمع کر رہے تھے۔ جنگ بندی کے آغاز سے اب تک کم از کم 355 فلسطینی اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ نے رفح اور خان یونس میں متعدد مقامات پر حملے کیے، جن میں سرنگوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ بحری فائرنگ، توپ خانے کے حملے اور ڈرون کارروائیاں بھی جاری رہیں۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے بمباری میں شدت لاتے ہوئے جان بوجھ کر دونوں بچوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ’’نسل کشی ختم نہیں ہوئی، صرف اس کی رفتار تبدیل ہوئی ہے۔‘‘

فلسطینی این جی او نیٹ ورک نے کہا ہے کہ امدادی سامان کی ترسیل میں کسی نمایاں بہتری کے شواہد نہیں ملے۔ زیادہ تر ٹرک تجارتی سامان لے کر آتے ہیں، جو غریب اور محصور شہریوں کی دسترس سے باہر ہے۔ حقیقی انسانی امداد اب بھی انتہائی محدود ہے۔

یونیسف کے مطابق غذائی قلت میں تیزی اور موسمِ سرما کی شدت بچوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ادارے کے مطابق اکتوبر کے دوران پانچ سال سے کم عمر تقریباً 9,300 بچے شدید غذائی قلت کا شکار پائے گئے۔ یونیسف نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ غزہ کی گزرگاہیں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے فوری طور پر کھولی جائیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.