پوپ لیو چہار دہم کا لبنان میں امن و اتحاد پر زور
بیروت— پوپ لیو چہار دہم پیر کے روز لبنان میں اپنے دوسرے دن امن، اتحاد اور مفاہمت کا پیغام دیں گے، جو ایسے وقت میں لبنانی نوجوانوں کے لیے امید کی نئی کرن سمجھا جا رہا ہے جب ملک شدید معاشی و سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق پوپ لیو چہار دہم ترکی کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر ہفتے کے روز لبنان پہنچے۔ آمد پر انہوں نے لبنانی قیادت پر زور دیا کہ وہ بحرانوں کے مارے عوام کی خدمت کو ترجیح دیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بڑے پیمانے پر ہجرت کے باعث ملک افرادی قوت سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔
لبنان گزشتہ چھ برس سے بدترین معاشی تباہی کا شکار ہے، جسے وسیع پیمانے پر سرکاری بدعنوانی اور بدانتظامی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ نومبر 2024 کی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آ سکی، اور حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی حملوں کے دوبارہ تیز ہونے سے نئے تنازع کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
لبنان پر مالی دباؤ میں اضافہ اس وقت ہوا جب واشنگٹن نے حکومت سے ایران حمایت یافتہ حزب اللہ کے مسلح دھڑوں کو غیر مسلح کرنے پر دباؤ بڑھایا۔ ایسے ماحول میں پوپ کا دورہ عوام کے لیے حوصلہ افزا سمجھا جا رہا ہے۔
44 سالہ الیاس ابو نصر، جو دو بچوں کے والد ہیں، نے اے ایف پی کو بتایا کہ پوپ کی آمد اس وقت ہوئی ہے جب "ہم شدید معاشی، سماجی اور سیاسی بحرانوں سے گزر رہے ہیں، اور ہمیں امید اور اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔” اُن کے مطابق پوپ لبنانی مذہبی اور سیاسی قیادت کو ایک جگہ اکٹھا کرکے اتحاد کا پیغام پہلے ہی دے چکے ہیں۔
مقدس مقامات کے دورے اور بین المذاہب اجلاس
اپنے دورے کے دوسرے دن پوپ لیو شمالی بیروت کے پہاڑی علاقے انایا میں واقع اُس خانقاہ کا دورہ کریں گے جہاں سینٹ چاربیل کا مقبرہ ہے، جنہیں 1977 میں سینٹ کا درجہ دیا گیا تھا۔ سینٹ چاربیل لبنان کے سب سے مقبول روحانی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
اس کے بعد وہ بیروت کے شمالی شہر حارثہ میں ایک مذہبی اجتماع سے خطاب کریں گے۔ یہاں پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہماری لیڈی آف لبنان کا بڑا مجسمہ بحیرۂ روم کی جانب رخ کیے کھڑا ہے۔
پوپ بیروت کے وسطی علاقے شہداء اسکوائر میں بین المذاہب تقریب کی قیادت بھی کریں گے اور بعدازاں دارالحکومت کے مضافات میں واقع بکرکے میں نوجوانوں سے ملاقات کریں گے، جو مارونائٹ چرچ کا مرکزی مرکز ہے۔
سخت سیکیورٹی اور عوام کا جوش
1 اور 2 دسمبر کو سرکاری تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی کے لیے مختلف سڑکیں بند اور ڈرون فوٹوگرافی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ بارش کے باوجود پوپ کے قافلے کا استقبال کرنے کے لیے اتوار کو ہزاروں شہری سڑکوں پر موجود تھے۔
امن، مفاہمت اور بقائے باہمی کا پیغام
اپنے خطاب میں پوپ لیو چہار دہم نے کہا کہ لبنانی رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ "عزم اور خلوص کے ساتھ اپنے عوام کی خدمت کریں” اور ایک ایسے ملک میں مفاہمت کو فروغ دیں جس کے زخم 1975 سے 1990 تک جاری خانہ جنگی کے بعد بھی مکمل طور پر نہیں بھر سکے۔
انہوں نے نوجوانوں کی بیرون ملک نقل مکانی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "امن وہ ہے جب قومیں مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا ہنر سیکھیں۔”
پوپ کا یہ 48 گھنٹے کا دورہ لبنان میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جہاں آخری بار 2012 میں پوپ بینیڈکٹ شانزدہم آئے تھے۔