غزہ میں جنگ بندی کی 591 خلاف ورزیاں، اسرائیلی حملوں سے 347 فلسطینی شہید اور 889 زخمی

0

غزہ: الجزیرہ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے دو ماہ سے بھی کم عرصے میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی کم از کم 591 مرتبہ خلاف ورزی کی، جن کے نتیجے میں 347 فلسطینی شہید اور 889 زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو اعلانِ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی افواج نے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فضائی، زمینی اور توپ خانے کے حملے کیے۔

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق 10 اکتوبر سے 29 نومبر کے دوران اسرائیل نے مختلف نوعیت کے حملے کیے جن میں 164 بار شہریوں پر براہ راست فائرنگ، 25 بار "یلو لائن” سے باہر رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانا، 280 مرتبہ بمباری و گولہ باری، جبکہ 118 مواقع پر املاک کی تباہی شامل ہے۔ اس عرصے میں اسرائیلی افواج نے 35 فلسطینیوں کو حراست میں بھی لیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل نے نہ صرف امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں برقرار رکھیں بلکہ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ جنگ بندی کے تحت طے شدہ شرائط میں جنگ کا خاتمہ، امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی، قیدیوں کا تبادلہ، اور اسرائیلی افواج کا "یلو لائن” سے انخلا شامل تھا، تاہم بیشتر نکات پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔

غزہ جنگ بندی معاہدہ 13 اکتوبر کو مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں منعقد ہونے والی تقریب میں طے پایا تھا جس میں تقریباً 30 ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس کے باوجود اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق کسی بھی پیش رفت کو مسترد کر دیا ہے جبکہ امریکا بھی غزہ کے مستقبل پر صرف مبہم مؤقف ظاہر کر رہا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق جنگ بندی کے 52 دنوں میں سے 41 دن اسرائیلی حملے جاری رہے، جبکہ صرف 11 دن ایسے گزرے جن میں غزہ میں کسی شہری کی شہادت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ اس تمام صورتحال کے باوجود امریکا کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔

رپورٹ کے مطابق امدادی شرائط بھی پوری نہیں ہو رہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ غزہ تک پہنچنے والی خوراک مطلوبہ مقدار کا صرف نصف ہے، جبکہ فلسطینی امدادی اداروں کے مطابق مجموعی امداد جنگ بندی کے معاہدے کے تحت طے شدہ حجم کے صرف ایک چوتھائی کے برابر ہے۔ اقوام متحدہ کے UN2720 مانیٹرنگ اینڈ ٹریکنگ ڈیش بورڈ کے مطابق 10 اکتوبر سے 29 نومبر تک صرف 6,102 ٹرک ہی اپنی مطلوبہ منزلوں تک پہنچ سکے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.