بھارتی اسمارٹ فونز میں سرکاری ایپ کی تنصیب لازمی قرار، پرائیوسی پر بحث تیز

0

بھارتی حکومت نے اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے تمام نئے ماڈلز میں سرکاری ایپ لازمی طور پر انسٹال کریں، جبکہ صارفین اسے فون سے حذف نہیں کر سکیں گے۔ قواعد پر عمل درآمد کے لیے کمپنیوں کو 90 روز کی مہلت دی گئی ہے۔

حکومتی اعلان کے مطابق نہ صرف نئے اسمارٹ فونز بلکہ استعمال شدہ موبائل فونز میں بھی سرکاری ایپ کا تازہ ترین ورژن اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ اس فیصلے نے ملک میں ڈیجیٹل پرائیوسی اور نگرانی کے خدشات کو دوبارہ ہوا دے دی ہے۔

انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن (IFF) نے اس حکومتی حکم نامے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ذاتی ڈیجیٹل آلات پر انتظامی کنٹرول کے مترادف ہے اور شہری آزادیوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری ایپ کی لازمی تنصیب شہریوں کی ذاتی معلومات، پرائیوسی اور ان کی نقل و حرکت کی نگرانی کا ذریعہ بن سکتی ہے، جو آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ملنے والے رازداری کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

تاہم، بھارتی یونین وزیر برائے کمیونیکیشن نے حکومتی موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ایپ لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہے اور صارف چاہے تو اسے ڈیلیٹ بھی کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد صرف شہریوں کے لیے سرکاری سروسز تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی قسم کی نگرانی کرنا۔

حکومت اور اپوزیشن کے متضاد بیانات نے عوام میں مزید کنفیوژن پیدا کر دی ہے اور نئی پالیسی پر بحث تاحال جاری ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.