خلیج تعاون کونسل کا مشترکہ میزائل دفاعی نظام کی تشکیل پر غور، اہم سربراہی اجلاس کل منامہ میں ہوگا
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدوی نے کہا ہے کہ جی سی سی کی چھوں رکن ریاستیں ایک مشترکہ میزائل دفاعی نظام کی تشکیل پر غور کر رہی ہیں جو خلیج عرب کے لیے ایک مؤثر حفاظتی ڈھال ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب علاقائی صورتحال شدید کشیدگی کا شکار ہے اور قطر حالیہ مہینوں میں ایران اور اسرائیل کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔
منامہ میں اڑتالیسویں خلیجی سربراہی اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے البدوی نے بتایا کہ مشترکہ خلیجی دفاع اس اجلاس کا ایک مرکزی موضوع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قطر پر حملوں کے بعد جی سی سی رہنماؤں نے دوحہ میں یکجہتی اجلاس منعقد کیا اور وزرائے دفاع کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات تجویز کریں جن سے خلیجی ممالک کو آئندہ کسی بھی ممکنہ حملے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ایرانی اور اسرائیلی حملوں کے بعد دفاعی تعاون میں تیزی
23 جون 2025 کو ایران نے امریکی جوہری تنصیبات پر حملے کے جواب میں متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جن میں قطر میں العدید ایئر بیس بھی شامل تھا۔ اسی سال 9 ستمبر کو اسرائیلی جنگی طیاروں نے دوحہ میں ایک فضائی حملہ کیا جو حماس کے مذاکراتی وفد کے زیر استعمال مقام کو نشانہ بناتا تھا۔ ان حملوں کے بعد جی سی سی ممالک نے قطر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور علاقائی دفاعی حکمت عملی کو از سرِنو منظم کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
البدوی نے بتایا کہ وزرائے دفاع نے دوحہ میں ہونے والی ملاقات میں مشترکہ فوجی تعاون کے لیے پانچ اقدامات پر اتفاق کیا ہے، تاہم ان کی تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ریاستیں پہلے ہی میزائل دفاعی نظام بنانے والے ممالک کے ساتھ بات چیت کر چکی ہیں اور جلد کسی قابلِ عمل حل تک پہنچنے کی امید ہے۔
آزاد تجارت کے معاہدوں پر پیش رفت
جی سی سی سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ کونسل دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدوں کی تشکیل پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان، نیوزی لینڈ اور جنوبی کوریا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں پر جلد دستخط متوقع ہیں۔ برطانیہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں بھی نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے اور صرف چند مراحل باقی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیجی۔برطانیہ شراکت داری اعتماد اور تعاون کی طویل تاریخ رکھتی ہے، اور آئندہ مرحلے میں یہ شراکت سیاسی ہم آہنگی، سلامتی و دفاع، ثقافتی تبادلے اور تجارت و سرمایہ کاری کے شعبوں میں مزید مضبوط ہوگی۔
چھیالیسواں خلیجی سربراہی اجلاس
بحرین کل جی سی سی کا چھیالیسواں سربراہی اجلاس منعقد کرے گا، جس میں رکن ممالک کے رہنما مشترکہ خلیجی کارروائی کو مضبوط بنانے اور خطے کی تازہ ترین علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔ یہ آٹھواں موقع ہے کہ 1981 میں قیامِ کونسل کے بعد بحرین جی سی سی سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔