ملائیشیا کی لاپتہ پرواز MH370 کی تلاش اس ماہ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
ملائیشیا نے اعلان کیا ہے کہ لاپتہ ملائیشیا ایئر لائنز کی پرواز MH370 کی تلاش 30 دسمبر سے دوبارہ شروع کی جائے گی۔ وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق دوبارہ آغاز 2014 میں کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہونے والے طیارے کے ایک دہائی سے زائد پرانے معمہ حل کرنے کی تازہ کوشش ہے۔
بوئنگ 777 طیارہ، جس میں 227 مسافر اور 12 عملے کے ارکان سوار تھے، روانگی کے کچھ دیر بعد لاپتہ ہوگیا تھا۔ گزشتہ برسوں میں کئی بڑے سرچ آپریشن کیے گئے لیکن طیارے کا بنیادی ملبہ تلاش نہیں کیا جا سکا۔ جنوبی بحر ہند میں ہونے والی تازہ ترین تلاش رواں سال اپریل میں خراب موسم کی وجہ سے چند ہفتوں بعد ہی روک دی گئی تھی۔
وزارت کے مطابق امریکی فرم اوشین اِنفینٹی نے تصدیق کی ہے کہ وہ سمندری تہہ کی تلاش کے کام کو دوبارہ شروع کرے گی، جس کا دورانیہ مجموعی طور پر 55 دن ہوگا اور یہ مرحلہ وار انجام دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ تلاش اُس اہدافی علاقے میں کی جائے گی جسے طیارے کی دریافت کے لیے سب سے زیادہ ممکنہ مقام سمجھا جاتا ہے، تاہم مخصوص مقام ظاہر نہیں کیا گیا۔
ملائیشیا کے تفتیش کاروں نے ماضی میں امکان ظاہر کیا تھا کہ طیارے کو جان بوجھ کر راستے سے ہٹایا گیا ہوگا، جبکہ تصدیق شدہ اور غیرتصدیق شدہ ملبہ افریقہ کے ساحل اور بحرِ ہند کے مختلف جزیروں پر ملا تھا۔ وزارت نے کہا کہ نئی تلاش حکومت اور اوشین اِنفینٹی کے درمیان طے شدہ شرائط کے مطابق ہوگی، جن کے تحت 15 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل علاقے کی تلاش کے دوران اگر کافی ملبہ دریافت ہوتا ہے تو فرم کو 70 ملین ڈالر ادا کیے جائیں گے۔
اوشین اِنفینٹی اس سے قبل 2018 میں بھی وسیع تر تلاش کر چکی ہے لیکن کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا۔ اُس سال جاری ہونے والی 495 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر طیارے کے کنٹرول میں جان بوجھ کر مداخلت کی گئی، تاہم یہ تعین نہیں ہوسکا کہ ذمہ دار کون تھا، اور حتمی نتیجہ ملبے کی دریافت سے مشروط قرار دیا گیا۔
تفتیش کاروں نے کپتان اور کو پائلٹ کے پس منظر، مالی معاملات، تربیت یا ذہنی صحت میں کسی مشکوک عنصر کی نشاندہی نہیں کی۔ لاپتہ پرواز میں 150 سے زائد چینی شہری سوار تھے، جبکہ ملائیشیا، فرانس، آسٹریلیا، انڈونیشیا، بھارت، امریکہ، یوکرین اور کینیڈا کے شہری بھی شامل تھے۔ لواحقین نے ملائیشیا ایئرلائنز، بوئنگ، رولز روائس اور الیانز گروپ سمیت دیگر اداروں سے معاوضوں کا مطالبہ کر رکھا ہے۔