امریکی انتظامیہ کا وینزویلا کے صدر سے استعفے کا مطالبہ، مادورو نے پیشکش مسترد کر دی
واشنگٹن/کاراکاس: امریکی انتظامیہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پیشکش کی ہے کہ اگر وہ عہدہ چھوڑ دیں تو انہیں کسی امیر عرب ملک میں منتقل ہونے کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ تاہم مادورو نے اس مطالبے کو یکسر رد کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق مادورو حکومت کو ’’جائز‘‘ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ دوسری جانب مادورو نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا کہ وینزویلا امن کیلئے امریکی غلامی قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ ملک خودمختاری، برابری اور آزادی کے ساتھ امن چاہتا ہے، اور نہ کبھی کالونی بنے گا اور نہ غلام۔
نکولس مادورو نے 22 ہفتوں پر محیط امریکی فوجی دباؤ کو ’’نفسیاتی دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی طاقت کا سرچشمہ عوام کی شمولیت ہے، جو شعور، مضبوط اداروں، دفاعی صلاحیت اور ہر مشکل میں وطن کی تعمیر کے عزم سے جڑی ہے۔ ان کے مطابق اسی سماجی ڈھانچے نے ملک کی طاقت کو مستقل اور ناقابلِ تسخیر بنایا ہے۔
وینزویلا کے صدر کا کہنا تھا کہ ان کا بنیادی مقصد وقار کے ساتھ امن کا تحفظ ہے، جس کیلئے ملکی سیاسی خودمختاری کا دفاع ناگزیر ہے۔