طالبان کا واشنگٹن فائرنگ واقعے سے لاتعلقی کا اظہار

0

کابل : واشنگٹن میں فائرنگ کرکے ایک سیکیورٹی گارڈ کو ہلاک اور دوسرے کو زخمی کرنے والے افغان شہری سے متعلق طالبان حکومت نے پہلی بار باضابطہ وضاحتی بیان جاری کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ واشنگٹن میں پیش آنے والا یہ واقعہ افغان حکومت یا عوام سے جوڑنا درست نہیں۔ حملہ ایک ایسے فرد نے کیا جسے خود امریکی اداروں نے تربیت دی اور بعد ازاں استعمال بھی کیا۔

امیر متقی کا کہنا تھا کہ یہ ملزم افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد بغیر اجازت ملک سے فرار ہوا جو بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی تھی۔ اس کی کوئی کارروائی طالبان حکومت یا عوام کی نمائندگی نہیں کرتی۔

امریکی حکام کے مطابق ملزم 29 سالہ رحمان اللہ لاکانوال افغانستان کی اس فورس کا اہلکار تھا جسے طالبان کے خلاف کارروائیوں کے لیے سی آئی اے کی حمایت حاصل رہی۔ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ اگست 2021 میں امریکا منتقل ہوگیا تھا۔

یہ منتقلی اس پالیسی کے تحت ہوئی تھی جس کے تحت امریکا نے ان افغان شہریوں کو ملک لانے کا عمل تیز کیا جو طویل عرصے تک امریکی افواج کے ساتھ منسلک رہے تھے۔ حکام کے درمیان اب بھی اس بات پر اختلاف ہے کہ لاکانوال کی آمد ٹرمپ دور کی پالیسی تھی یا بائیڈن انتظامیہ کی۔

واقعے کے بعد امریکی فورسز نے ملزم کو فائرنگ کے تبادلے میں شدید زخمی حالت میں گرفتار کیا تھا۔ اس پر قتل سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔ پراسیکیوٹر آئندہ سماعت میں سزائے موت کی درخواست دیں گی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.