مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی این جی او پر اسرائیلی چھاپے؛ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق چیپٹر کی شدید مذمت

0

اقوام متحدہ: اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی زرعی تنظیم یونین آف اگریکلچرل ورک کمیٹیز (یو اے ڈبلیو سی) کے دفاتر پر اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے تازہ چھاپوں کی سخت مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ فلسطینی سول سوسائٹی پر دباؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

یکم دسمبر کو راملہ اور الخلیل میں قائم یو اے ڈبلیو سی کے دفاتر میں کیے گئے آپریشن کے دوران املاک کو نقصان پہنچایا گیا، عملے کے ارکان کو حراست میں لیا گیا، اُن کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں، ہاتھ باندھ کر گھٹنوں کے بل یا زمین پر لیٹنے پر مجبور کیا گیا۔ او ایچ سی ایچ آر کے مطابق کم از کم 8 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

یو اے ڈبلیو سی کئی دہائیوں سے فلسطینی کسانوں اور دیہی برادریوں کی معاونت کر رہی ہے، خاص طور پر اُن افراد کی جو آبادکاروں کی پرتشدد سرگرمیوں یا جبری بے دخلی کے خطرے سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ تنظیم اُن چھ فلسطینی این جی اوز میں شامل ہے جنہیں اسرائیل نے 2021 میں ایک ایسے انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت دہشت گرد قرار دیا تھا جسے اقوام متحدہ ’’بلا جواز اور حد سے زیادہ وسیع‘‘ قرار دیتا ہے۔ او ایچ سی ایچ آر کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اپنے الزامات کے ثبوت اب تک پیش نہیں کیے۔

انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق یہ چھاپے ایسے وقت میں ہوئے جب کئی ہفتوں سے اسرائیلی آبادکار زیتون کی فصل کے دوران یو اے ڈبلیو سی اور اس کے کارکنوں کو ہراساں کر رہے تھے۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق نومبر کے وسط تک 167 آبادکار حملے سامنے آئے، جن سے 87 فلسطینی کمیونٹیز متاثر ہوئیں۔ یکم اکتوبر سے آبادکاروں اور اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کے محافظین اور متعلقہ این جی اوز کے خلاف 81 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں 48 گرفتاریوں اور 22 جسمانی تشدد کے واقعات شامل ہیں۔

او ایچ سی ایچ آر کے مطابق غیر ضروری یا غیر متناسب طاقت کا استعمال، حراست اور بدسلوکی مقبوضہ مغربی کنارے میں سیکیورٹی آپریشنز کا معمول بنتے جا رہے ہیں، جس سے فلسطینیوں کی شہری و جسمانی آزادیوں پر شدید قدغنیں لگ رہی ہیں۔ ادارے نے مزید کہا کہ اسرائیلی آبادکاری میں تیزی اور علاقوں کے ’’غیر قانونی انضمام‘‘ نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔

مقبوضہ علاقوں میں او ایچ سی ایچ آر کے سربراہ اجیت سنگھے کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون واضح ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اپنی غیر قانونی موجودگی ختم کرنا ہوگی اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلوں کے مطابق یہودی آبادکاروں کو وہاں سے ہٹانا ہوگا۔ ان کے مطابق قابض طاقت کے طور پر اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطینیوں کے روزگار کے حق اور اظہارِ رائے و وابستگی کی آزادی کا تحفظ کرے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.