جنوبی کوریا کی جوہری آبدوزوں کی دوڑ سے ایشیا میں زیرِ آب اسلحہ سازی کے نئے باب کا آغاز

0

سیئول/واشنگٹن/ٹوکیو — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توثیق کے بعد جنوبی کوریا کے جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے حصول کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھنے لگا ہے، جس کے ساتھ خطے میں کئی دہائیوں سے موجود امریکی مزاحمت بھی کمزور پڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت ایشیا کے اسٹریٹجک ماحول کو نئی شکل دے سکتی ہے اور زیرِ آب ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ کو جنم دینے کا باعث بن سکتی ہے۔

جنوبی کوریا طویل عرصے سے شمالی کوریا کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایٹمی آبدوزوں کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا رہا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے تعاون کے بعد سول کو جوہری معاہدے کے تحت ایندھن تک رسائی ملنے کا راستہ ہموار ہوا، جو اس منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ تصور کی جاتی تھی۔

سابق فوجی حکام اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی یہ پیشرفت چین میں تشویش پیدا کرے گی جبکہ جاپان پر بھی ایسے پروگرام شروع کرنے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
جنوبی کوریا کی بحریہ کے ریٹائرڈ آبدوز کمانڈر چوئی اِل نے خبردار کیا "نیوکلیئر آبدوزیں انتہائی موثر حملہ آور صلاحیت رکھتی ہیں۔ خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ اب ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔”

سیول کا مؤقف — جوہری ہتھیار نہیں، لیکن نیوکلیئر پروپلشن ضروری

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد زیرِ سمندر موجود شمالی کوریا کے خطرات کا مقابلہ کرنا ہے، بالخصوص سب میرین لانچڈ بیلسٹک میزائلز (SLBM) کے تناظر میں۔ حکومت نے واضح کیا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی اور عدم پھیلاؤ کی عالمی پالیسی کی پابندی کرے گی۔
صدر لی جے میونگ نے اس معاہدے کو ٹرمپ سے ملاقات کا بڑا سفارتی نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے ملک کی دفاعی خود مختاری اور اسٹریٹجک لچک مزید مضبوط ہوگی۔

شمالی کوریا اور ممکنہ روسی تعاون

پیانگ یانگ دعویٰ کرچکا ہے کہ وہ بھی جوہری آبدوز پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ اس سال مارچ میں ریاستی میڈیا نے کم جونگ ان کو ایسی آبدوز کا جائزہ لیتے دکھایا۔ اگرچہ اس پروگرام کی اصل پیشرفت واضح نہیں، کچھ مبصرین کو شبہ ہے کہ روس سے تکنیکی تعاون حاصل کیا جا رہا ہے—وہ امکان جس پر جنوبی کوریا کی فوج سخت نظر رکھے ہوئے ہے۔

جاپان کا ردعمل — نیا دباؤ، نئی حکمتِ عملی؟

رپورٹس کے مطابق ٹوکیو کو جنوبی کوریا کے جوہری آبدوز پروگرام کیلئے امریکی حمایت پر حیرت ہوئی، اور خدشہ ہے کہ اگر امریکہ خطے میں اس پالیسی کی تائید جاری رکھتا ہے تو جاپان پیچھے رہ جائے گا۔
جاپانی وزیرِ دفاع شنجیرو کوئزومی کا کہنا ہے کہ نیوکلیئر پروپلشن مستقبل میں ایک آپشن ہوسکتا ہے، اگرچہ باضابطہ حکومتی سطح پر کوئی عملی منصوبہ فی الحال موجود نہیں۔ ایک جاپانی عہدیدار نے کہا کہ اگر ٹوکیو اس سمت بڑھا تو واشنگٹن کی مدد ناگزیر ہوگی۔

بحری امور کے ماہرین کے مطابق جاپان کی موجودہ ڈیزل آبدوزیں اتھلے پانیوں کیلئے موزوں ہیں، مگر جوہری آبدوزیں بحرالکاہل میں دور رس اسٹریٹجک آپریشنز کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہیں، حتیٰ کہ مستقبل میں Second-Strike Capability کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔

خطہ کہاں جا رہا ہے؟

جنوبی کوریا کی نئی پیشرفت نہ صرف کورین جزیرہ نما کی اسلحہ جاتی حرکیات کو متاثر کرے گی بلکہ چین، جاپان اور امریکہ کے تزویراتی توازن پر بھی براہ راست اثر ڈالے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک ملک ایٹمی آبدوزیں حاصل کرتا ہے تو دوسرے ممالک کے لیے بھی اس سمت بڑھنے کا جواز بنتا ہے—اور یوں ایشیا میں پانی کے نیچے ایک نئی اسلحہ دوڑ کا آغاز ہو سکتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.