جنگ بندی ناکام، امریکہ کا سوڈانی فوج اور RSF پر سخت پابندیوں پر غور

0

واشنگٹن / اوسلو — سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کی سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں جس کے بعد امریکہ نے سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) کے خلاف وسیع تر پابندیوں پر غور شروع کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی مساد بولوس کی جانب سے جنگ بندی کرانے میں ناکامی کے بعد سامنے آیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی درخواست پر سوڈان میں امن کے لیے نئی کوششوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ "دنیا میں صرف ٹرمپ وہ شخصیت ہیں جو سوڈان بحران کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں”۔

دی گارڈین کے مطابق جنگ میں شامل فریقوں کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ اگر جنگ بندی میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو ٹرمپ انتظامیہ تعزیری اقدامات میں سخت اضافہ کر سکتی ہے۔ اب تک امریکی پابندیاں محدود رہی ہیں اور صرف RSF کی اعلیٰ قیادت، فوجی کمان اور متحدہ عرب امارات سے منسلک چند کمپنیوں تک محدود تھیں، تاہم اب ان کا دائرہ بڑھنے کا امکان ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کی ہتھیاروں پر پابندی کو بھی مزید سخت اور مؤثر بنانے پر غور کر رہا ہے، جس سے جنگ میں فریقین کی فوجی سپلائی کمزور ہو سکتی ہے۔

ناروے آئندہ ہفتوں میں سوڈانی سول سوسائٹی اور سیاسی دھڑوں کو اوسلو میں مدعو کرے گا جہاں خانہ جنگی کے خاتمے کی صورت میں سویلین حکومت کی بحالی پر بات ہوگی۔

ایک عرب سفارتکار کے مطابق "ٹرمپ امن عمل میں رفتار لا رہے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس پیش رفت کو کس حد تک عملی شکل دیتی ہیں۔”

اقوام متحدہ کے مطابق خانہ جنگی میں اب تک 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 1 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں—جس سے ملک دنیا کے بدترین انسانی بحران کا شکار ہوچکا ہے۔
تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کورڈوفن کے شہر باڑہ پر RSF کے قبضے کے بعد فضائی حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری میں کم از کم 269 شہری مارے گئے۔

سعودی عرب اور مصر سوڈانی فوج کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ RSF کو مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کی پشت پناہی حاصل ہے، جس کی ابو ظہبی تردید کرتا ہے لیکن اقوام متحدہ اور عالمی میڈیا کی رپورٹس اس کے برعکس شواہد پیش کرتی ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.