امریکہ غزہ امن منصوبے فیز 2 کے اعلان کی تیاری کر رہا ہے
واشنگٹن / غزہ — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ آئندہ ہفتوں میں اپنے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں منتقلی کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ بندی کو مستحکم کرنا ہے، جو تقریباً دو ماہ قبل ثالثی کے ذریعے نافذ کی گئی تھی۔
دوسرا مرحلہ بنیادی طور پر گورننس اور سیکیورٹی میکانزم کے قیام پر مرکوز ہوگا جو حماس کے بعد غزہ کی پٹی کے انتظام کے ذمہ دار ہوں گے۔ امریکی اہلکار کے مطابق اعلان کے دوران ان میکانزم میں شامل افراد اور ممالک کی شناخت بھی سامنے آئے گی، تاہم فائنل فہرست ابھی تک حتمی شکل اختیار نہیں کر سکی ہے۔
حماس اور ثالثی ممالک کے ساتھ مذاکرات
امریکی اہلکار نے بتایا کہ قطر، مصر اور ترکی ثالثی کے عمل کے دوران حماس سے ہتھیار کم کرنے اور اقتدار منتقلی پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حماس نے غزہ کے انتظام کو فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے حوالے کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم غیر ملکی اداروں جیسے بورڈ آف پیس کے کردار پر مخالفت برقرار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حماس نے اپنے مسلح حقوق پر زور دیا ہے اور ہتھیار چھوڑنے پر عجلت سے راضی نہیں ہے۔
اسرائیل کی تحفظات اور بین الاقوامی فورس کی تعیناتی
امریکی اہلکار کے مطابق اسرائیل نے فوری اور مکمل تخفیف اسلحہ کے بجائے، بتدریج اور مرحلہ وار نقطہ نظر پر زور دیا ہے۔ منصوبے کے تحت 2026 کے آغاز میں بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کو غزہ کی پٹی میں تعینات کیا جائے گا۔ ISF پہلے یلو لائن کے ساتھ ڈپلائ کی جائے گی، جو شمال سے جنوب تک غزہ کو آدھے حصے میں تقسیم کرتی ہے—مشرق میں اسرائیل اور مغرب میں حماس کے زیر کنٹرول علاقے۔
ISF آہستہ آہستہ اسرائیل کی دفاعی افواج کی جگہ لے گی اور پوری پٹی کی سیکورٹی کو کنٹرول کرے گی۔ کچھ ممالک، جیسے انڈونیشیا اور آذربائیجان نے فوجیوں کی شمولیت کی آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اسرائیل کی جانب سے ترکی کی شمولیت کو مسترد کر دیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل ترک حکومت پر غزہ میں حماس کی حمایت کا الزام عائد کرتا ہے اور اس کی قیادت کی تلخ تنقید کرتا رہا ہے۔
امریکی منصوبے کی کامیابی کا انحصار حماس اور اسرائیل دونوں کے تعاون پر ہے۔ ثالثی عمل کے ذریعے ہتھیاروں کی مرحلہ وار تخفیف اور انتظامی گورننس کے قیام کے بعد ہی ISF کی تعیناتی ممکن ہوگی۔
یہ اقدام غزہ میں دیرپا امن اور انسانی بحران میں کمی لانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔