بھارت عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار، خالصتان سربراہ کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط
واشنگٹن — علیحدگی پسند تنظیم سکھ فار جسٹس (SFJ) کے رہنما گرپتونت سنگھ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام خط لکھ کر بھارت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو عالمی سطح پر قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے سفری و امیگریشن پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
خط میں موقف اختیار کیا گیا کہ بھارتی ایجنسیاں بیرون ملک قتل کی سازشوں میں ملوث ہیں، جبکہ بھارت میں سکھوں کو سیاسی و مذہبی آزادی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ گرپتونت سنگھ کے مطابق سکھ برادری کو منظم جبر کا سامنا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر کارروائی ناگزیر بن چکی ہے۔
انہوں نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ سکھ برادری کو ممکنہ سفری یا اقتصادی پابندیوں سے استثنیٰ فراہم کیا جائے اور بھارت کے خلاف مؤثر سفارتی دباؤ بڑھایا جائے۔ خط میں بھارتی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں پر ویزا فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔
ایس ایف جے کی جانب سے یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر بھارت کی اقلیتوں سے متعلق پالیسیوں پر تنقید بڑھ رہی ہے، خاص طور پر سکھوں کے سیاسی حقوق اور علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف کارروائیوں کے پس منظر میں۔