غزہ — اسرائیلی افواج کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے تحت طے پانے والی ’یلو لائن‘ دراصل اسرائیل اور غزہ کے درمیان نئی سرحد ہے۔ اس بیان نے خطے کی صورتحال کے حوالے سے نئے سوالات اور تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آرمی چیف نے غزہ میں تعینات ریزرو فوجیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ یلو لائن سرحدی حد بندی کا نیا تعین ہے، جو نہ صرف ایک دفاعی بیریئر بلکہ آبادیاتی تحفظ کے لیے نئی لائن کا کردار بھی ادا کرے گی۔ ان کے بقول ’’یہ اب ایک نئی سرحد ہے‘‘۔
بین الاقوامی خبر ایجنسیوں کے مطابق 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کی شقوں کے تحت یلو لائن وہ حد ہے جہاں سے اسرائیلی فوج کو پیچھے ہٹنا تھا۔
معاہدے کے طے شدہ نکات میں شامل تھا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں فوج اس لائن تک پیچھے جائے گی اور دوسرے مرحلے میں مزید علاقے خالی کیے جائیں گے۔
معاہدے کے اگلے مرحلے میں غزہ کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے ایک عبوری فلسطینی اتھارٹی کی تشکیل کا بندوبست بھی شامل ہے، جو غیر جانب دار سیکیورٹی فریم ورک کی زیرِ نگرانی ہوگی۔
اسرائیلی آرمی چیف کا یہ بیان معاہدے کی روح اور مستقبل کے سیاسی تعمیراتی عمل پر سوال اٹھا رہا ہے، کیونکہ یلو لائن کو سرحد قرار دیے جانے سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کنٹرول برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے — چاہے جزوی یا عسکری شکل میں ہی۔
دوسری جانب غزہ میں جاری کشیدگی اور انسانی بحران کے تناظر میں یہ اعلان امن عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
