تھائی لینڈ اور کمبوڈیا سرحد پر دوبارہ جھڑپیں — ایک تھائی فوجی ہلاک، 7 زخمی

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا سرحد پر دوبارہ جھڑپیں — ایک تھائی فوجی ہلاک، 7 زخمی

بین الاقوامی سرحدی تناؤ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تازہ جھڑپوں میں ایک تھائی فوجی ہلاک اور سات اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جب کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق تھائی فوج نے متنازع سرحد کے مزید مقامات پر کارروائیاں بڑھا دی ہیں اور فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔ تھائی ملٹری ترجمان نے دعویٰ کیا کہ کمبوڈیا نے سرحدی علاقوں میں ہتھیاروں اور اضافی فوج کی تعیناتی بڑھا دی ہے، جس کے بعد ردعمل ناگزیر تھا۔

کمبوڈین وزارتِ دفاع نے الزام عائد کیا کہ تھائی فوج کی اشتعال انگیزی کے بعد کم از کم دو مقامات پر بمباری کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان کی فوج نے کسی قسم کی جوابی فائرنگ نہیں کی، اور وہ اب بھی معاہدے پر عمل کر رہے ہیں۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تنازع مزید نہ بڑھے، اس کے لیے رابطہ اور سفارتی چینلز فعال رکھنے ضروری ہیں۔

گزشتہ روز دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں قائم جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا تھا۔

جولائی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع پر پانچ روز تک جھڑپیں جاری رہیں، جن میں 48 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 3 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے تھے۔
بعد ازاں اکتوبر میں کوالالمپور میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امن معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس میں ملائیشیا کے وزیراعظم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔

تاہم موجودہ جھڑپوں نے اس معاہدے کے مستقبل پر دوبارہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے