اسرائیلی فوج میں ذہنی دباؤ اور خودکشی کے واقعات میں اضافہ — غزہ جنگ میں شامل مزید ایک اہلکار نے زندگی کا خاتمہ کرلیا

اسرائیلی فوج میں ذہنی دباؤ اور خودکشی کے واقعات میں اضافہ — غزہ جنگ میں شامل مزید ایک اہلکار نے زندگی کا خاتمہ کرلیا

غزہ میں جاری دو سالہ جنگ نے نہ صرف فلسطینیوں کیلئے تباہی اور انسانی المیہ پیدا کیا ہے بلکہ اسرائیلی فوج کے اندر بھی ذہنی ٹوٹ پھوٹ اور صدمات کی نئی لہر تیزی سے پھیل رہی ہے۔ تازہ ترین واقعے میں ایک اور فوجی اہلکار نے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر خودکشی کرلی۔

رپورٹس کے مطابق رافیل بارزانی نامی فوجی غزہ میں مختلف عسکری کارروائیوں میں شریک رہا اور مسلسل جنگی حالات کے سبب ذہنی و اعصابی کیفیت بگڑتی چلی گئی۔ اہلکار طویل عرصے سے Post Traumatic Stress Disorder (PTSD) میں مبتلا تھا — یہ وہ نفسیاتی بیماری ہے جو جنگی ماحول، گولی باری، ہلاکتوں کے مناظر اور مستقل ڈر کے باعث انسان کے اعصاب پر شدید اثر ڈالتی ہے۔

اس مرض میں مبتلا افراد کو عام طور پر

  • خوفناک خواب آنا

  • جنگی مناظر کے فلیش بیک

  • بے چینی اور گھبراہٹ

  • روزمرہ زندگی میں عدم توجہ اور تھکن

جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں شخص کی عام زندگی اور ذہنی توازن بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

اس خودکشی کے بعد اسرائیلی معاشرے اور فوجی اداروں میں اس بحران کے بڑھتے ہوئے رجحان پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق غزہ جنگ میں حصہ لینے والے متعدد فوجی صدموں کا شکار ہیں، جبکہ ان کیلئے طبی اور نفسیاتی معاونت ناکافی دکھائی دیتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں ان واقعات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

جنگوں کے اثرات صرف محاذ تک محدود نہیں رہتے، وہ ذہن و اعصاب پر ایسے نشان چھوڑ جاتے ہیں جو کبھی مکمل طور پر مٹ نہیں پاتے — اور غزہ جنگ اس تلخ حقیقت کی ایک واضح مثال بنتی جا رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے