یورپی یونین کے ماحولیاتی جائزوں کے مطابق سال 2025 عالمی سطح پر ریکارڈ حدت کے نئے سنگ میل عبور کر رہا ہے اور توقع ظاہر کی گئی ہے کہ یہ صدی کے گرم ترین سالوں میں شامل ہو کر 2023 کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرا گرم ترین سال بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جنوری سے نومبر 2025 تک عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے اوسط معیار کے مقابلے میں تقریباً 1.48 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جو زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ماحول میں مسلسل بگاڑ کی خطرناک علامت ہے۔
نومبر 2025— تاریخ کا تیسرا گرم ترین نومبر
اعداد و شمار کے مطابق صرف نومبر کا درجہ حرارت ہی معمول سے کہیں زائد رہا اور یہ ریکارڈ کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا گرم ترین نومبر ثابت ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ وقتی یا اتفاقی نہیں بلکہ عالمی درجہ حرارت میں جاری مسلسل اضافے کی ایک مضبوط کڑی ہے۔ سمندری پانی کا درجہ حرارت بھی اس دوران غیر معمولی سطح تک پہنچ گیا اور قطبی علاقوں میں برف سابق اوسط کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم رہی، جس سے عالمی موسمیاتی توازن پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔
1.5 ڈگری کا عالمی ہدف خطرے میں
پیرس معاہدے کے تحت عالمی درجہ حرارت میں 1.5 °C تک اضافے کو حدِ خطرہ تصور کیا گیا تھا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ 2023 سے 2025 تک کا اوسط درجہ حرارت اس حد کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ سطح مکمل طور پر عبور کر لی جائے۔ اگر ایسا ہوا تو دنیا ماحولیاتی بحران کے ایسے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے جہاں واپسی ممکن نہیں رہے گی۔
عالمی سطح پر نتائج نمایاں — ہیٹ ویوز، خشک سالی اور جنگلاتی آگ میں اضافہ
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025 کے اعداد و شمار صرف اعداد نہیں بلکہ پوری دنیا میں موسم کے بدلتے ہوئے رویے کی کھلی نشانیاں ہیں۔ گزشتہ برس کے دوران دنیا کے کئی ممالک شدید گرمی کی لہروں، تباہ کن جنگلاتی آگ، بارشوں کی بے قاعدگی اور خشک سالی جیسے مظاہر کا سامنا کر چکے ہیں۔ آرکٹک اور انٹارکٹک میں برفانی پگھلاؤ بڑھ رہا ہے جبکہ سمندری درجہ حرارت بالخصوص خطِ استوا کے قریب مسلسل سائنسی توقعات سے زیادہ رہا۔
ماہرین کا انتباہ — وقت کم اور خطرہ بڑا
موسمی ارتعاش کی تیزی سے بگڑتی صورتحال ماہرین کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق اگر گرین ہاؤس گیسوں—خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین—کے اخراج میں فوری اور شدید کمی نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں سمندری طوفان، سیلاب، قحط اور جان لیوا گرمی عام ہو جائیں گے۔ ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ انسانیت کے پاس ایک محدود وقت باقی ہے جس میں اقدام نہ کیے گئے تو کرۂ ارض اگلی صدی میں رہنے کے قابل نہ رہے گا۔
حل کیا ہے؟ — عالمی اجتماعی کوشش ناگزیر
ماہرین کے مطابق:
✔ متبادل اور قابل تجدید توانائی (ونڈ، سولر، ہائیڈرو) کا تیز فروغ
✔ فوسل فیول پر انحصار میں کمی
✔ صنعتوں اور ٹرانسپورٹ سے کاربن اخراج کی سخت حدبندی
✔ جنگلات کا تحفظ اور نئے جنگلات کی بحالی
✔ پانی و زمین کے قدرتی وسائل کے استعمال میں اعتدال
وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف درجہ حرارت کے اضافے کو سست کر سکتے ہیں بلکہ ماحول کو مستقبل کے لیے محفوظ بنانے میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
