تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی لڑائی تیسرے روز بھی جاری، ٹرمپ ثالثی کے لیے تیار، فون کال کریں گے

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی لڑائی تیسرے روز بھی جاری، ٹرمپ ثالثی کے لیے تیار، فون کال کریں گے

بنکاک/پنہوں پنہ — تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپیں بدھ کو مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے تنازعے کو روکنے کے لیے جلد دونوں ممالک کے رہنماؤں سے رابطہ کریں گے۔ جولائی میں بھی انہی کی ثالثی کے نتیجے میں پانچ روزہ لڑائی کا خاتمہ اور جنگ بندی ممکن ہوئی تھی، جس کے بعد سے صورتحال نازک مگر قابو میں تھی۔

تھائی وزیرِ خارجہ نے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ موجودہ حالات مذاکرات کے لیے سازگار نہیں اور فریقین کے درمیان بات چیت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے بقول سرحدی ماحول اتنا کشیدہ ہے کہ کسی تیسرے ملک کی ثالثی کے لیے بھی صورتحال سازگار نہیں رہی۔ دوسری جانب کمبوڈیا کے وزیرِ اعظم ہن مانیٹ کے اعلیٰ مشیر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی وقت بات چیت کے لیے تیار ہے اور وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔

ٹرمپ کی انتخابی ریلی میں بیان — "ایک فون کال لڑائی روک سکتی ہے”

پنسلوانیا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ماضی میں پاکستان-بھارت اور اسرائیل-ایران کے درمیان جنگی کشیدگی روکنے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان نیا تنازع بھی ان کی ایک کال سے رک سکتا ہے۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کی قیادت سے متعدد بار رابطہ کر چکے ہیں اور جولائی کی جھڑپوں کے بعد ہونے والی جنگ بندی میں ان کی مداخلت اہم رہی تھی، جس کے دوران کم از کم 48 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جولائی کی جنگ بندی کے وقت ٹرمپ نے تجارتی مذاکرات اور محصولات (ٹیرف) کو بطور دباؤ استعمال کرکے معاہدہ ممکن بنایا تھا، لیکن اب تھائی لینڈ اس حکمتِ عملی پر تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔ تھائی وزیرِ خارجہ سیہا سک فوانگ کیٹ کیو کے مطابق کسی بھی ملک پر ٹیرف کے خطرے کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کرنا درست نہیں اور یہ عمل سفارتی ماحول کو مزید خراب کر سکتا ہے۔

سرحدی صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب گزشتہ ماہ ایک تھائی فوجی بارودی سرنگ سے زخمی ہوا، جس پر بنکاک نے الزام لگایا کہ نئی سرنگ کمبوڈیا نے بچھائی۔ کمبوڈیا نے الزام کی سختی سے تردید کی لیکن واقعے کے بعد دونوں ممالک نے مکمل ڈی ایسکلیشن پلان مؤخر کر دیا۔

دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں سے لاکھوں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ کمبوڈین وزارتِ دفاع کے مطابق پیر سے اب تک نو شہری ہلاک اور بیس شدید زخمی ہوئے جبکہ تھائی حکام کی جانب سے چار فوجیوں کی ہلاکت اور 68 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

تھائی فوج کے ایک سینئر جنرل کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد کمبوڈیا کی عسکری صلاحیت کو طویل مدت تک محدود رکھنا ہے۔ دوسری جانب کمبوڈیا نے الزام عائد کیا ہے کہ تھائی فوج شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے اور اس کے فوجیوں کے پاس دفاع کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ بنکاک نے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک نے جلد مذاکرات کی طرف پیش رفت نہ کی تو خطے میں بڑے انسانی بحران کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اب نگاہیں اس بات پر ہیں کہ آیا ٹرمپ کی ممکنہ مداخلت ایک بار پھر جنگ بندی کی راہ ہموار کر پائے گی یا سرحدی محاذ مزید گرم ہوگا۔

صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ ہو رہی ہے — اور امن کی امید ایک سفارتی فیصلے کی محتاج ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے