واشنگٹن — امریکی کسٹم اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) نے امریکی ویزا کے حصول کے لیے ایک نئی اور سخت شرط متعارف کرادی ہے، جس کے تحت تمام درخواست گزاروں کی گزشتہ پانچ سال کی سوشل میڈیا سرگرمی کی لازمی جانچ کی جائے گی۔ اس تازہ فیصلے کا اطلاق کب سے ہوگا، اس بارے میں فی الحال امریکی حکام نے کوئی حتمی تاریخ جاری نہیں کی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نئے سخت ضابطوں کے تحت ویزا درخواست دہندگان کے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا مکمل تجزیہ کیا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا کسی نے امریکا مخالف، یہود مخالف یا انتہا پسندانہ مواد تو شیئر نہیں کیا۔ اس کے علاوہ دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی ترویج یا کسی بھی مشتبہ مواد کی جانچ بھی لازمی ہوگی۔
امریکا آنے والوں سے اہل خانہ کی تفصیلی معلومات بھی طلب کی جائیں گی۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم امریکا کی اندرونی سیکیورٹی مضبوط بنانے اور ممکنہ خطرات کو پہلے سے شناخت کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی 19 مختلف ممالک کے شہریوں پر امریکا کے داخلی دروازے محدود یا بند کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں، جس کے بعد ویزا پالیسیوں میں مزید سختیاں متوقع تھیں۔
نئے قانون کو انسانی حقوق کے کارکنان اور امیگریشن ماہرین کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، جو اسے شہری آزادیوں اور نجی زندگی میں مداخلت قرار دے رہے ہیں۔
