واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بدھ کے روز اپنے متنازع اور مہنگے ترین امیگریشن پروگرام "ٹرمپ گولڈ کارڈ” کا باضابطہ آغاز کر دیا، جس کے تحت غیر ملکی شہری بھاری رقم ادا کرکے امریکا میں رہائش اور کام کرنے کی فوری اجازت حاصل کرسکیں گے۔
سرکاری ویب سائٹ Trumpcard.gov پر جاری تفصیلات کے مطابق، پروگرام کے تحت درخواست گزار پہلے 15 ہزار ڈالر فیس ادا کرکے فوری پراسیسنگ حاصل کریں گے، جس کے بعد پس منظر کی جانچ پڑتال اور سیکیورٹی کلیئرنس کے مراحل ہوں گے۔
ایک ملین ڈالر کے "تعاون” کے بعد مستقل رہائش
ویب سائٹ کے مطابق، جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد درخواست دہندگان کو ایک "تعاون” — یا سرکاری زبان میں "تحفہ” — کے طور پر 10 لاکھ ڈالر (1 ملین ڈالر) ادا کرنا ہوں گے، جس کے بدلے انہیں امریکی گرین کارڈ کے برابر، لیکن ٹرمپ کے بقول "مزید طاقتور” مستقل رہائشی کارڈ جاری کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران کہا "یہ بنیادی طور پر گرین کارڈ ہے، لیکن اس سے کہیں بہتر۔ یہ ایک بہت طاقتور، بہت مضبوط راستہ ہے— عظیم لوگوں کو امریکا لانے کا راستہ۔"
پہلے ہی 10 ہزار درخواستیں موصول — لٹنک
کامرس سیکریٹری ہاورڈ لٹنک نے بتایا کہ پری رجسٹریشن کے دوران تقریباً 10,000 افراد پہلے ہی پروگرام کے لیے سائن اپ کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا "ہم توقع کرتے ہیں کہ ہزاروں مزید افراد اس پروگرام میں شامل ہوں گے، جس سے امریکی خزانے کو اربوں ڈالر حاصل ہوں گے۔"
"اوسط” گرین کارڈ ہولڈرز پر تنقید
لٹنک نے دعویٰ کیا کہ گولڈ کارڈ پروگرام امریکا میں زیادہ سرمایہ لائے گا، جبکہ عام گرین کارڈ ہولڈرز کے بارے میں کہا کہ وہ اوسط امریکیوں سے کم آمدنی رکھتے ہیں اور ان کے خاندان "کافی حد تک عوامی امداد پر انحصار کرتے ہیں” — تاہم انہوں نے اس دعوے کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کا نیا رخ
ٹرمپ کی حکومت ایک جانب غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب گولڈ کارڈ کو ’’آمدنی بڑھانے‘‘ کا ذریعہ قرار دیا جارہا ہے — گویا امیگریشن کا دروازہ بند بھی ہے اور دولت مندوں کے لیے کھلا بھی۔
کارپوریٹ گولڈ کارڈ— ہر کارکن کے لیے 2 ملین ڈالر
انتظامیہ نے کمپنیوں کے لیے کارپوریٹ گولڈ کارڈ اسکیم بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت ادارے اپنے منتخب ملازمین کے لیے فی کارکن 2 ملین ڈالر کے عطیے کے بدلے تیز رفتار ویزا حاصل کرسکیں گے۔
