ریکیاوِک / ویانا — آئس لینڈ نے اسرائیل کی یوروویژن 2026 میں شرکت کے فیصلے کے خلاف بطور احتجاج ایونٹ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد وہ اسپین، سلووینیا، نیدرلینڈز اور آئرلینڈ کے بعد پانچواں ملک بن گیا ہے جو نہ تو مقابلے میں شریک ہوگا اور نہ ہی اسے نشر کرے گا۔
قومی نشریاتی ادارے RÚV کے بورڈ نے بدھ کے روز اجلاس میں باضابطہ طور پر شرکت نہ کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔
فیصلے کے مطابق آئس لینڈ اگلے سال ویانا میں ہونے والے یوروویژن گانے کے مقابلے سے مکمل طور پر لاتعلق رہے گا۔
"عوامی جذبات نے واضح کر دیا کہ شرکت ممکن نہیں” — RÚV
RÚV کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا "ملک میں جاری عوامی بحث کو دیکھتے ہوئے واضح ہے کہ یوروویژن میں شرکت نہ خوشی کا باعث بنے گی اور نہ سکون کا۔ اسی لیے RÚV نے EBU کو مطلع کیا ہے کہ وہ آئندہ سال یوروویژن میں حصہ نہیں لے گا۔"
ادارے نے مزید کہا کہ اس نے یورپی براڈکاسٹنگ یونین (EBU) کے سامنے کئی بار اپنے خدشات رکھے، لیکن انہیں نظرانداز کیا گیا۔
اسرائیل کی شمولیت پر شدید عالمی ردعمل
گزشتہ ہفتے EBU نے غزہ میں جاری جنگ کے باوجود اسرائیل کو مقابلے سے خارج کرنے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد یوروویژن میں شدید تقسیم اور احتجاج بڑھے۔
یورپ بھر میں متعدد مقامات پر مخالفین نے احتجاج کیے، جبکہ کئی براڈکاسٹرز نے مقابلے کو ’’غیر اخلاقی‘‘ قرار دیا۔
یوروویژن میں بحران گہرا — سیاسی تنازع سے مقابلے کا مستقبل خطرے میں
یوروویژن، جسے ایک غیر سیاسی ثقافتی میوزک ایونٹ کے طور پر جانا جاتا ہے،
اب ایک بڑے سیاسی بحران کا شکار ہے۔
متعدد ممالک کے بائیکاٹس نے:
-
مقابلے کی ساکھ
-
مالی وسائل
-
براڈکاسٹنگ شراکت
-
اور یورپی ثقافتی اتحاد
— سب کو متاثر کیا ہے۔
EBU کی ہنگامی جنرل اسمبلی — صرف سخت ووٹنگ قوانین منظور
EBU نے گزشتہ ہفتے ہنگامی اجلاس میں:
-
اسرائیل کے حق میں مبینہ ووٹوں کی دھاندلی
-
اور سیاسی بے اعتمادی
کے الزامات پر بحث کی،
تاہم کسی ملک کو مقابلے سے خارج کرنے کے بجائے صرف ووٹنگ کے قواعد سخت کیے گئے۔
آئس لینڈ کے نائب چیئر کا بیان: "یہ انسانی حقوق کا دن ہے”
بائیکاٹ سے قبل RÚV کی نائب چیئر Diljá Ámundadóttir Zöega نے کہا تھا "آج انسانی حقوق کا عالمی دن ہے، اور میرا خیال ہے کہ فیصلہ اسی جذبے کے تحت ہوگا۔"
کچھ ممالک کی شرکت برقرار — "یوروویژن صرف موسیقی کے لیے ہے”
بائیکاٹ کے برعکس،
پولینڈ، جرمنی اور آسٹریا نے یوروویژن میں حصہ لینے کی تصدیق کی۔
پولینڈ کے نشریاتی ادارے نے کہا "جذبات بجا ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یوروویژن اب بھی محض موسیقی کو فروغ دینے کا پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔"
جرمنی اور آسٹریا نے بھی موقف اختیار کیا کہ مقابلہ ہمیشہ سے غیر سیاسی رہا ہے۔
اسپین اور آئرلینڈ نے بائیکاٹ کو ’اخلاقی ذمہ داری‘ قرار دیا
آئرش نشریاتی ادارے RTÉ نے کہا "غزہ میں انسانی بحران اور جانوں کے خوفناک نقصان کے پیش نظر شرکت ممکن نہیں۔"
اسپین کے سرکاری نشریاتی ادارے RTVE کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی شرکت ’’عوامی بے اعتمادی‘‘ پیدا کرے گی۔
اسپین کے وزیرِ ثقافت ارنسٹ ارٹاسون نے بھی بائیکاٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا "غزہ میں نسل کشی کے پیش نظر اسرائیل کو وائٹ واش نہیں کیا جا سکتا۔ ثقافت کو امن اور انصاف کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔"
