تھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی، قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار
بنکاک — تھائی لینڈ کے وزیر اعظم انوتین چرنویراکول نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ ’’عوام کو اقتدار واپس کر رہے ہیں‘‘ اور پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد ملک میں عام انتخابات پہلے سے طے شدہ شیڈول سے بھی جلد منعقد ہوں گے۔
حکومتی ترجمان سیری پونگ انگکاساکولکیات نے رائٹرز کو بتایا کہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت، پیپلز پارٹی، کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات کے نتیجے میں سامنے آیا۔ ترجمان کے مطابق ’’ہم پارلیمنٹ میں مزید آگے نہیں بڑھ سکتے تھے،‘‘ اسی لیے یہ اقدام ضروری ہو گیا۔
سرکاری رائل گزٹ کے مطابق تھائی لینڈ کے بادشاہ مہا وجیرالونگ کورن نے اس فرمان کی توثیق کر دی ہے، جس کے بعد آئین کے تحت 45 سے 60 دن کے اندر انتخابات کرانا لازم ہے۔
یہ سیاسی پیش رفت اُس وقت سامنے آئی ہے جب تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ چوتھے روز بھی جاری ہے، جس میں اب تک کم از کم 20 افراد ہلاک اور تقریباً 200 زخمی ہو چکے ہیں۔ انوتین نے بدھ کے روز صحافیوں کو یقین دلایا کہ پارلیمنٹ کی تحلیل سے سرحد پر جاری فوجی کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جہاں مختلف مقامات پر بھاری اسلحے کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔
وزیر اعظم نے جمعرات کو رات گئے سوشل میڈیا پر کہا، ’’میں عوام کو اقتدار واپس کر رہا ہوں۔‘‘ وہ اگست 2023 کے بعد ملک کے تیسرے وزیر اعظم ہیں، اور مسلسل سیاسی عدم استحکام جنوب مشرقی ایشیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جو پہلے ہی امریکی محصولات، زیادہ قرضوں اور کمزور کھپت کا سامنا کر رہی ہے۔
انتخابات کی تیز رفتار ٹائم لائن
ستمبر میں انوتین نے کہا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو جنوری کے آخر تک تحلیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور عام انتخابات مارچ یا اپریل کے اوائل میں کرائے جائیں گے۔ تاہم تازہ اقدام نے اس ٹائم لائن میں واضح تیزی پیدا کر دی ہے۔
انوٹین نے اقتدار اس وقت سنبھالا تھا جب انہوں نے اپنی بھومجائیتھائی پارٹی کو حکمران اتحاد سے الگ کیا اور پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کی۔ پیپلز پارٹی نے تعاون کے بدلے آئینی ترامیم پر ریفرنڈم سمیت کئی مطالبات پیش کیے تھے۔
ترجمان سیری پونگ کے مطابق، ’’جب پیپلز پارٹی اپنی مطلوبہ شرائط حاصل نہ کر سکی تو انہوں نے تحریکِ عدم اعتماد لانے اور فوری طور پر پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔‘‘
پیپلز پارٹی کے رہنما نتھافونگ روینگپانیاوت نے جمعرات کی شب صحافیوں سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ بھومجائیتھائی پارٹی نے معاہدے کی شرائط پوری نہیں کیں۔ ان کے مطابق پارٹی نے آئینی ترمیم کے لیے اپوزیشن کی حمایت استعمال کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن پیش رفت نہ ہو سکی۔