بھارت میں کرپشن اسکینڈل، چار کرکٹرز معطل، ایف آئی آر درج

0

نئی دہلی: بھارت میں ڈومیسٹک کرکٹ کو ایک بار پھر کرپشن کے سنگین الزامات نے ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں آسام کرکٹ ایسوسی ایشن (اے سی اے) نے چار کرکٹرز کو مبینہ کرپشن اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر معطل کر دیا ہے۔

کرک انفو کے مطابق، جمعے کے روز آسام کرکٹ ایسوسی ایشن نے امت سنہا، ایشان احمد، امن تریپاٹھی اور ابھیشیک ٹھاکوری کو سید مشتاق علی ٹرافی 2025 کے دوران مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے پر فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ تمام کھلاڑی مختلف اوقات میں آسام کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

آسام کرکٹ ایسوسی ایشن نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نہ صرف انتظامی کارروائی کی بلکہ چاروں کھلاڑیوں کے خلاف ریاستی پولیس کی کرائم برانچ میں باقاعدہ ایف آئی آر بھی درج کرا دی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ کھلاڑی نہ صرف خود مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے بلکہ انہوں نے سید مشتاق علی ٹرافی میں شرکت کرنے والے آسام کے دیگر کرکٹرز کو بھی مبینہ طور پر کرپشن نیٹ ورک میں شامل کرنے کی کوشش کی۔

اے سی اے حکام کے مطابق، ابتدائی تحقیقات میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن کی بنیاد پر فوری معطلی ضروری سمجھی گئی، تاہم حتمی فیصلے کا انحصار پولیس اور اینٹی کرپشن یونٹس کی مکمل تحقیقات پر ہوگا۔

معطلی کے فیصلے کے تحت چاروں کھلاڑیوں پر ریاستی سطح پر کسی بھی کرکٹ ٹورنامنٹ میں شرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ وہ آسام کرکٹ ایسوسی ایشن، اس کے ضلعی یونٹس یا کسی بھی منسلک کلب کی جانب سے منعقدہ میچز میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گے، جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں۔

کرکٹ حلقوں میں اس واقعے کو بھارت کی ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ماضی میں بھی میچ فکسنگ اور اسپاٹ فکسنگ کے متعدد کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے مستقبل پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

آسام کرکٹ ایسوسی ایشن نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کرکٹ میں زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت کسی بھی قسم کی بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی، اور اگر الزامات ثابت ہوئے تو سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.