غزہ کی تباہی کے ذمہ دار ممالک تعمیرِ نو کا خرچ اٹھائیں، اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی کا مطالبہ

0

جنیوا: فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی نے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے لیے اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک، خصوصاً امریکا، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی، کو چاہیے کہ اب غزہ کی تباہ حال انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو کی مالی ذمہ داری بھی قبول کریں۔

عرب فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رابطہ کار فرانسسکا البانیز نے اپنے بیان میں کہا کہ جن ممالک نے اسرائیل کو عسکری مدد فراہم کی، وہ غزہ میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی کے بالواسطہ ذمہ دار ہیں اور انہیں اس کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

فرانسسکا البانیز کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں رہائشی عمارتیں، اسپتال، اسکول اور بنیادی سہولیات مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جس کے بعد لاکھوں فلسطینی شہری بے گھر اور انسانی بحران کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق، بین الاقوامی قانون کے تحت ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک پر بھی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ فلسطین کے حوالے سے مؤقف اختیار کرنے کی وجہ سے امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں نے ان کی پیشہ ورانہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ فرانسسکا البانیز کے مطابق وہ اب امریکا کا سفر نہیں کر سکتیں اور انہیں بین الاقوامی سطح پر مجرموں جیسا سلوک برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کا رویہ برطانوی نوآبادیاتی نظام سے مشابہت رکھتا ہے، جہاں مقامی آبادی کو بغیر مقدمے کے حراست میں لینا، تشدد کا نشانہ بنانا اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنا معمول کی بات تھی۔

فرانسسکا البانیز نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کے خلاف اجتماعی سزاؤں، جبری حراست اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو عالمی برادری مسلسل نظر انداز کر رہی ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر عالمی طاقتیں واقعی غزہ میں امن اور استحکام چاہتی ہیں تو انہیں محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے تعمیرِ نو، انصاف اور احتساب کو یقینی بنانا ہوگا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.