ڈونلڈ ٹرمپ کا تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں جنگ بندی بحال ہونے کا اعلان
واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے سربراہان نے کئی روز جاری رہنے والے سرحدی تصادم کے بعد بالآخر جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے تھائی لینڈ کے وزیراعظم اینوٹن چیرنویراکول اور کمبوڈیا کے وزیراعظم ہون مینیٹ سے ٹیلیفونک رابطے کے بعد اس اعلان کو اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیا۔
صدر ٹرمپ نے بیان میں کہا کہ جنگ بندی آج شام سے نافذ العمل ہوگی اور اس میں ملائیشیا کے وزیراعظم انوار ابراہیم کی ثالثی کو کلیدی کردار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ "انوار ابراہیم نے ایک مرتبہ پھر تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کو دوبارہ جنگ روکنے کے لیے راضی کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔”
یہ یاد دہانی بھی کرائی گئی کہ جولائی 2025 میں ملائیشیا کے وزیراعظم انوار ابراہیم اور صدر ٹرمپ کی کوششوں سے دونوں ممالک نے سرحد پر امن قائم کرنے کے لیے پہلی بار جنگ بندی کی تھی۔ اس معاہدے کی تفصیلات اکتوبر میں سامنے آئیں، جب صدر ٹرمپ نے ملائیشیا میں علاقائی سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں، جن کی بنیاد 1907 میں تیار کیے گئے سرحدی نقشوں پر ہے، جب کمبوڈیا فرانس کی نوآبادیات تھا اور تھائی لینڈ نے ان نقشوں کو غلط قرار دیا۔ اس کشیدگی میں 1962 میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے نے بھی اضافہ کیا، جس میں کمبوڈیا کی خودمختاری کو تسلیم کیا گیا، تاہم تھائی لینڈ کی اکثریت آج تک اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ان اقدامات کا مقصد دو خوشحال اور شان دار ممالک کے درمیان ممکنہ سنگین جنگی تصادم کو روکنا ہے اور تھائی لینڈ و کمبوڈیا کے وزرائے اعظم کے ساتھ کام کرنا میرے لیے فخر کی بات ہے۔