کمبوڈیا نے بڑھتی کشیدگی کے بعد تھائی لینڈ کے ساتھ تمام سرحدی گزرگاہیں بند کر دیں

0

پنوم پین — کمبوڈیا نے مسلسل بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر تھائی لینڈ کے ساتھ تمام سرحدی گزرگاہیں بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق تھائی لینڈ کی فوج کی حالیہ کارروائیوں میں متعدد شہری ہلاک ہوئے اور بنیادی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد کمبوڈیا نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جاری بیان میں دونوں ممالک کو ہدایت کی گئی کہ وہ جنگ بندی معاہدے کا احترام کریں اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں۔ صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا دونوں فریق امن کے عمل کی پاسداری کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک امن کے لیے تیار ہیں اور امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم، حقیقت میں سرحدی کشیدگی کم نہیں ہوئی، اور کمبوڈیا کی جانب سے گزرگاہیں بند کرنے کے فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور انسانی روابط متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ کشیدگی ایسے وقت میں شدت اختیار کر گئی ہے جب تھائی لینڈ نے گزشتہ ماہ امریکی ثالثی میں طے پانے والے امن معاہدے پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ تھائی فوج کے دو اہلکار سرحد کے قریب بارودی سرنگ دھماکے میں زخمی ہونے کے بعد معاہدے کی معطلی کی گئی تھی، جس کے بعد کمبوڈیا نے سخت ردِعمل کے طور پر تمام سرحدی راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر ثالثی اور بات چیت کا آغاز نہ کیا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان تنازع مزید بڑھ سکتا ہے اور سرحدی علاقوں میں انسانی بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.