طالبان حکومت نے ایران میں افغانستان سے متعلق علاقائی اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا

0

کابل/تہران — طالبان حکومت نے ایران کی جانب سے افغانستان سے متعلق منعقد کیے جانے والے علاقائی اجلاس میں باضابطہ دعوت موصول ہونے کے باوجود شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایران کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، چین اور روس کے خصوصی نمائندوں کی شرکت متوقع تھی۔ افغان وزارت خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیا احمد تکل نے "پژواک افغان نیوز” کو بتایا کہ اسلامی امارت کو تہران میں ہونے والے اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا، تاہم افغانستان اس اجلاس میں شریک نہیں ہوگا۔

انہوں نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پہلے ہی مختلف علاقائی تنظیموں، فورمز اور دوطرفہ میکانزمز کے ذریعے ہمسایہ اور علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل اور فعال روابط رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں علاقائی افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

افغان وزارت خارجہ کے مؤقف کے مطابق، خطے میں تعاون اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے نئے فورمز کی بجائے موجودہ علاقائی نظام اور ڈھانچوں کو مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پہلے اعلان کیا تھا کہ ایران آئندہ ہفتے افغانستان سے متعلق ایک علاقائی اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک کے خصوصی نمائندے شریک ہوں گے۔ تاہم افغان حکام نے واضح کیا کہ اسلامی امارت خطے میں باہمی اعتماد، رابطوں اور تعاون کی حامی ہے، لیکن ان مقاصد کے لیے پہلے سے موجود علاقائی پلیٹ فارمز کو ہی مؤثر اور موزوں سمجھتی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ وہ افغان طالبان حکومت کو اپنے بین الاقوامی فرائض پورے کرنے اور اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد عناصر پر قابو پانے کے لیے آمادہ کرے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان رواں برس اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کے بعد قطر اور ترکی کی ثالثی سے جنگ بندی پر اتفاق ہوا، تاہم سرحدی تنازعات کے باعث دوطرفہ تجارت متاثر ہوئی اور کشیدگی برقرار ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.