شام میں 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر صدر ٹرمپ نے بدلہ لینے کا اعلان کر دیا
دمشق — شام کے تاریخی شہر پالمیرا کے قریب داعش کے ایک بڑے حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی فوجی مترجم ہلاک ہو گئے، جبکہ تین دیگر امریکی اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق حملہ ایک گھات کے دوران امریکی اور شامی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنا کر کیا گیا، اور حملہ آور کو اتحادی فورسز نے ہلاک کر دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور داعش سے وابستہ تھا۔
اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا داعش کو بھرپور جواب دے گا اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لے گا۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔
حملہ پالمیرا میں شام کی وزارتِ داخلہ کے نمائندوں کے ساتھ طے شدہ ملاقات کے دوران ہوا۔ شامی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نورالدین البابا نے کہا کہ حملہ آور کا وزارتِ داخلہ کی سیکیورٹی فورسز کی قیادت سے کوئی تعلق نہیں تھا، تاہم پینٹاگون نے اسے داعش کے ایک اکیلے مسلح فرد کا کارروائی قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ امریکی فوجیوں کے خلاف داعش کی جانب سے 2019 کے بعد سب سے مہلک حملہ ہے۔ یاد رہے کہ 2019 میں امریکی فوجیوں کو منبج میں خودکش بم حملے میں نقصان پہنچا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق شام اور عراق میں اب بھی داعش کے پانچ سے سات ہزار جنگجو موجود ہیں۔
امریکی فوج شام میں 2015 سے داعش کے خلاف آپریشنز اور دیگر فورسز کی تربیت فراہم کرنے میں سرگرم ہے۔ حملے کے بعد زخمیوں کو امریکی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے القائم الطنف کے قریب امریکی اڈے منتقل کیا گیا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی داعش کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے لیے پوزیشن مضبوط کر چکے ہیں۔