خلیل الحیا کا دوٹوک مؤقف: حماس کے ہتھیار ’’جائز حق‘‘ ہیں، جنگ بندی تجاویز میں اس حق کا تحفظ ضروری ہے

0

غزہ — حماس کے غزہ میں سربراہ خلیل الحیا نے واضح کیا ہے کہ حماس کے پاس ہتھیار رکھنے کا ’’جائز حق‘‘ موجود ہے اور غزہ جنگ بندی کے آئندہ مراحل سے متعلق کسی بھی تجویز میں اس حق کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت اور اس کے ہتھیار بین الاقوامی قانون کے تحت ایک تسلیم شدہ حق ہیں اور ان کا براہِ راست تعلق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے ہے۔

الاقصیٰ ٹی وی پر اپنے ٹیلی وژن خطاب میں خلیل الحیا نے کہا کہ حماس ہر اس تجویز کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنے کے لیے تیار ہے جو فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت دے اور ساتھ ہی مزاحمت کے اس بنیادی حق کو محفوظ رکھے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہتھیار ڈالنے کی کوئی بھی شرط فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق سے متصادم ہوگی۔

خلیل الحیا نے اس موقع پر اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حماس کے ہتھیاروں کی تیاری کے شعبے کے سربراہ رعد سعد ایک روز قبل غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام اس وقت شدید آزمائش سے گزر رہے ہیں اور اب تک 70 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں تازہ ترین شہداء میں مجاہد کمانڈر رعد سعد اور ان کے ساتھی شامل ہیں۔

اسرائیل نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا تھا کہ اس نے رعد سعد کو ہلاک کر دیا ہے اور انہیں 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے منصوبہ سازوں میں سے ایک قرار دیا تھا، جس کے بعد غزہ میں جنگ کا آغاز ہوا۔ یہ رواں سال اکتوبر میں نافذ ہونے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد حماس کے کسی سینئر رہنما کی سب سے بڑی ہلاکت قرار دی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر تقریباً روزانہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ امریکا کی سرپرستی میں طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ بدستور نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ یہ معاہدہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔

پہلے مرحلے میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے غزہ میں قید 48 زندہ اور مردہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عہد کیا تھا، جن میں سے ایک لاش کے علاوہ تمام کو رہا کیا جا چکا ہے۔ دوسرے مرحلے میں اسرائیلی افواج کو غزہ میں اپنی پوزیشنوں سے مزید پیچھے ہٹنا ہے اور ان کی جگہ ایک بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس تعینات کی جائے گی، جبکہ اسی مرحلے میں حماس کے ہتھیاروں کے حوالے سے بھی شرائط زیرِ بحث ہیں۔

اسرائیل مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے، تاہم حماس کی قیادت اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے فلسطینی مزاحمت کے بنیادی حق کے خلاف قرار دیتی ہے۔ معاہدے کے تیسرے مرحلے میں غزہ کے ان وسیع علاقوں کی تعمیرِ نو شامل ہے جو اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں تباہ ہو چکے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.