یوکرین جنگ بندی مذاکرات کے لیے امریکی ایلچی برلن پہنچ گئے، روس اور یوکرین کے بیچ فضائی حملوں کا تبادلہ جاری
برلن — یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور داماد جیرڈ کشنر اتوار کی صبح برلن پہنچے تاکہ ایک اور دورِ مذاکرات میں حصہ لیں۔ یہ مذاکرات امریکی، یوکرائنی اور یورپی حکام کے درمیان برلن میں ہونے والے سلسلہ وار اجلاسوں کے تحت ہوں گے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یہ مذاکرات امن قائم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی معاہدہ حاصل کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ زیلنسکی نے زور دیا کہ امن معاہدے کا مقصد یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانت فراہم کرنا اور روس کو مستقبل میں تیسرے حملے سے روکنا ہے۔
امریکی قیادت نے مہینوں سے فریقین کے مطالبات میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں یوکرین کے مشرقی ڈونیٹسک علاقے کا کنٹرول اور سکیورٹی ضمانتیں شامل ہیں۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین کو ڈونیٹسک سے اپنی افواج واپس بلانا اور نیٹو میں شمولیت کی کوشش ترک کرنا ہوگی۔
روس کے خارجہ امور کے مشیر یوری یوشاکوف نے خبردار کیا کہ سمجھوتے کی تلاش میں وقت لگ سکتا ہے اور روسی مطالبات کو مدنظر رکھ کر امریکی تجاویز پر سخت اعتراضات ہو سکتے ہیں۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی خبردار کیا کہ یوکرین کے گرنے کا مطلب یورپ میں روسی اثر و رسوخ کا بڑھنا ہو گا اور سابق سوویت یونین کی سرحدیں بحال کرنے کی کوششیں جاری رہ سکتی ہیں۔
دوسری جانب جنگ کے دوران فضائی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے گزشتہ رات 138 ڈرون اور متعدد میزائل داغے، جن میں سے 110 کو مار گرایا گیا، لیکن چھ مقامات پر میزائل حملے ریکارڈ ہوئے۔ روس کی وزارت دفاع نے بتایا کہ فضائی دفاع نے 235 ڈرونز کو ناکارہ بنایا۔