واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے کو ’’خوفناک‘‘ اور ’’واضح طور پر یہود مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے متاثرہ خاندانوں سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ سڈنی میں پیش آنے والا واقعہ نہایت دل دہلا دینے والا ہے، جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق اس حملے میں 11 افراد ہلاک اور 29 شدید زخمی ہوئے، جو ایک افسوسناک اور قابلِ مذمت سانحہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر اس بہادر شہری کی خصوصی طور پر تعریف کی جس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر حملہ آور کو قابو کیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا، ’’ایک بہادر شخص نے اندر جا کر شوٹر کو پکڑا، اس کا اسلحہ چھینا اور بہت سی جانیں بچائیں۔ ایسے افراد انسانیت کے اصل ہیرو ہوتے ہیں۔‘‘
انہوں نے آسٹریلیا اور اس کے وزیرِ اعظم کے ساتھ امریکی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا آسٹریلیا کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط اور دیرینہ ہیں۔
خطاب کے دوران امریکی صدر نے شام میں امریکی فوجیوں پر حالیہ حملے کا بھی ذکر کیا اور واضح کیا کہ یہ حملہ شامی حکومت نے نہیں بلکہ دہشت گرد تنظیم داعش نے کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ شام میں ہونے والے حملے میں تین امریکی اہلکار مارے گئے، جو ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے والوں کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور امریکا اپنے شہریوں اور فوجیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کا شریک ہے اور دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی سطح پر سڈنی حملے اور شام میں امریکی فوجیوں پر حملے کی مذمت میں مزید تیزی آ گئی ہے، جبکہ متاثرین کے لیے تعزیت اور ہمدردی کے پیغامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
