امریکا کے ٹیکنالوجی اتحاد ’’پیکس سیلیکا‘‘ سے بھارت کو خارج کر دیا گیا

امریکا کے ٹیکنالوجی اتحاد ’’پیکس سیلیکا‘‘ سے بھارت کو خارج کر دیا گیا

نئی دہلی — امریکا کی قیادت میں قائم جدید ٹیکنالوجی اور محفوظ سلیکون سپلائی چین کے عالمی اتحاد ’’پیکس سیلیکا‘‘ سے بھارت کو خارج کر دیا گیا، جسے عالمی سطح پر نئی دہلی کی بڑھتی ہوئی تنہائی کی واضح علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پیکس سیلیکا ایک اسٹریٹجک اتحاد ہے جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور سلیکون سپلائی چین کو محفوظ بنانا ہے۔ اس اتحاد سے بھارت کا اخراج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مودی حکومت عالمی سطح پر اپنی سفارتی کامیابیوں کے دعوے کرتی رہی ہے۔

بھارتی میڈیا، خصوصاً دی انڈین ایکسپریس کے مطابق اس فیصلے پر بھارت کی اپوزیشن نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ مئی میں پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی عبرتناک شکست نے بھارت کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا، اور دس مئی کے بعد کسی اہم امریکی قیادت والے اتحاد سے بھارت کا اخراج حیران کن نہیں۔

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی جارحانہ خارجہ پالیسی، خطے میں کشیدگی اور سفارتی محاذ پر غیر متوازن حکمتِ عملی کے باعث بھارت کو مسلسل عالمی فورمز پر پسپائی کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کے ساتھ نام نہاد ذاتی تعلقات اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوششوں کے باوجود بھارت کو کوئی ٹھوس سفارتی فائدہ حاصل نہیں ہو سکا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پیکس سیلیکا جیسے اہم عالمی ٹیکنالوجی اتحاد سے اخراج نہ صرف بھارت کے لیے معاشی اور تکنیکی لحاظ سے نقصان دہ ہے بلکہ یہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اپوزیشن نے اس پیش رفت کو بھارت کی عالمی حیثیت میں ’’غیر معمولی گراوٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت قوم کو اعتماد میں لے اور اس سفارتی ناکامی کی وجوہات واضح کرے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو بھارت کو مستقبل میں مزید بین الاقوامی فورمز پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے