سپر انٹیلی جنس انسانیت کے لیے وجودی خطرہ بن سکتی ہے: مائیکروسافٹ میں اے آئی چیف مصطفیٰ سلیمان
دمشق — مائیکروسافٹ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کی قیادت کرنے والے شامی نژاد ماہر مصطفیٰ سلیمان نے خبردار کیا ہے کہ سپر انٹیلی جنس مستقبل میں انسانیت کے لیے ایک سنگین وجودی خطرہ بن سکتی ہے، اگر اس کی ترقی اور استعمال کے لیے واضح حدود مقرر نہ کی گئیں۔
العربیہ اردو کے مطابق مصطفیٰ سلیمان نے کہا کہ سپر انٹیلی جنس پہلے ہی کئی علمی اور فکری نوعیت کے کاموں میں غیر معمولی کارکردگی دکھانا شروع کر چکی ہے، اور یہ پیش رفت اس رفتار سے ہو رہی ہے جو انسانی صلاحیتوں سے کہیں آگے ہے، حالانکہ یہ ٹیکنالوجی تاحال آزمائشی مرحلے میں موجود ہے۔ ان کے مطابق دنیا اس وقت ایک ایسے تکنیکی اور اخلاقی موڑ پر کھڑی ہے جہاں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں آئندہ نسل کی مصنوعی ذہانت پر غلبہ حاصل کرنے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
مصطفیٰ سلیمان نے وضاحت کی کہ سپر انٹیلی جنس محض کسی موجودہ اے آئی ماڈل کا زیادہ ترقی یافتہ ورژن نہیں، بلکہ یہ ایسا نظام ہو سکتا ہے جو کسی بھی کام کو خود سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اجتماعی طور پر تمام انسانوں سے بہتر انداز میں اسے انجام دے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی مصنوعی نظام خود اپنے اہداف طے کرنے لگے، اپنے کوڈ کو خود بہتر بنائے اور انسانوں کی نگرانی یا کنٹرول کے بغیر فیصلے کرنا شروع کر دے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس مرحلے پر معاملہ محض سائنسی ترقی یا تکنیکی کامیابی کا نہیں رہتا بلکہ یہ براہِ راست انسانیت کے وجود سے جڑا خطرہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے ایک واضح ’’ریڈ لائن‘‘ مقرر کرنا ناگزیر ہے جسے کسی صورت عبور نہ کیا جائے، تاکہ اے آئی کی ترقی انسانوں کے قابو میں رہے۔
بلومبرگ ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق مائیکروسافٹ کسی بھی بڑی اور انقلابی پیش رفت سے قبل سپر انٹیلی جنس کے ممکنہ خطرات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مصطفیٰ سلیمان کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک اس مقصد کے لیے طبی شعبہ سب سے موزوں ماحول فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طب ایسا میدان ہے جس کے اثرات گہرے اور نتائج قابلِ پیمائش ہوتے ہیں، جہاں فوائد اور خطرات دونوں کا نہایت محتاط اور سائنسی انداز میں تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مصطفیٰ سلیمان کا یہ انتباہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات، ضابطہ سازی اور انسانی کنٹرول سے متعلق بحث کو مزید تیز کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔