سڈنی بیچ حملہ: ہلاک حملہ آور کے بھارتی شہری ہونے کی تصدیق، بھارتی میڈیا کا اعتراف، فالس فلیگ بیانیہ بے نقاب
سڈنی — سڈنی کے معروف ساحلی علاقے بانڈی بیچ میں ہونے والے ہلاکت خیز حملے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ہلاک حملہ آور کے بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنے کے انکشاف کے بعد خود بھارتی میڈیا نے بھی ساجد اکرم کے بھارتی شہری ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ اس اعتراف کے بعد پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی بھارتی میڈیا کی مبینہ منظم فالس فلیگ مہم بے نقاب ہو گئی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ساجد اکرم کا تعلق بھارت کے شہر حیدرآباد، تلنگانہ سے تھا، جو 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا منتقل ہوا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آسٹریلیا جانے کے بعد ساجد اکرم صرف دو سے تین مرتبہ بھارت واپس گیا، جبکہ اس کا آخری دورہ 2022 میں حیدرآباد کا تھا۔
بھارتی ذرائع کے مطابق ساجد اکرم کے خلاف بھارت میں کسی قسم کا مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ حملہ آور کے پاس بھارتی پاسپورٹ موجود تھا، جس کے باعث آسٹریلوی حکام نے تحقیقات کے سلسلے میں بھارتی سیکیورٹی اور تفتیشی اداروں سے رابطہ قائم کر لیا ہے۔
دوسری جانب، بھارتی میڈیا کی جانب سے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پروفائلز کے ذریعے واقعے کا الزام پاکستان پر ڈالنے کی کوشش بھی سامنے آئی ہے، جسے بعد ازاں خود بھارتی میڈیا کی رپورٹس نے غلط ثابت کر دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بانڈی بیچ واقعہ ایک بار پھر بھارتی میڈیا کے فالس فلیگ بیانیے کو بے نقاب کرتا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا۔
رپورٹس میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ آسٹریلوی پولیس کے مطابق حملہ آور اور اس کے بیٹے نے گزشتہ ماہ فلپائن کا سفر کیا تھا، جہاں والد نے بھارتی پاسپورٹ جبکہ بیٹے نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر سفر کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سفر کے مقاصد کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ ان کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق تھا یا انہوں نے وہاں کسی قسم کی عسکری تربیت حاصل کی۔
ماہرین کے مطابق حقائق سامنے آنے کے بعد پاکستان کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد بیانیہ دم توڑ گیا ہے، جبکہ بھارتی میڈیا کی اپنی رپورٹس نے اس مہم کو زمین بوس کر دیا ہے۔ آسٹریلوی حکام کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے اور مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔