ٹرمپ نےمزید 20 ممالک کے شہریوں پر امریکی سفری پابندیاں عائد کردی، اطلاق یکم جنوری سے ہوگا
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے نام پر ایک اور سخت اقدام کرتے ہوئے مزید 20 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔ اس فیصلے کے بعد امریکی سفری پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک کی مجموعی تعداد بڑھ کر 35 ہو گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق نئی پالیسی کے تحت شام، جنوبی سوڈان، نائجر، مالی اور برکینا فاسو کے شہریوں پر امریکا کے سفر پر مکمل پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ تمام افراد بھی اس پابندی کی زد میں آئیں گے جن کی سفری دستاویزات فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام امریکا کو غیر محفوظ اور غیر مستحکم بنانے والے عناصر کے داخلے کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق بعض ممالک کی جانب سے سفری دستاویزات کی تصدیق اور سیکیورٹی اسکریننگ کے مؤثر نظام کا فقدان امریکا کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
نئی پابندیوں کے دائرہ کار میں ان ممالک کے طلبہ، امریکی شہریوں کے اہل خانہ اور افغان اسپیشل امیگرینٹ ویزا (SIV) رکھنے والے افراد بھی شامل ہوں گے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور امیگریشن ماہرین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ 16 ممالک کے شہریوں پر جزوی سفری پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ ان ممالک میں انگولا، انٹیگوا و باربوڈا، بنین، آئیوری کوسٹ، ڈومینیکا، گبون، گیمبیا، ملاوی، موریطانیہ، نائجیر، سینیگال، تنزانیہ، ٹونگا، زیمبیا اور زمبابوے شامل ہیں۔ جزوی پابندیوں کے تحت ویزا کے بعض زمروں اور طویل المدتی قیام پر سخت شرائط لاگو کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل جون میں افغانستان سمیت 12 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے باہر ایک افغان شہری کی جانب سے فائرنگ کے واقعے میں دو نیشنل گارڈز کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ نے تیسری دنیا کے ممالک سے امریکا میں نقل مکانی روکنے کے سخت بیانات بھی دیے تھے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ آئندہ مرحلے میں مزید 15 ممالک کے شہریوں پر بھی پابندیاں لگانے پر غور کر رہی ہے، جن میں اکثریت افریقی ممالک کی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا ایسے تمام غیر ملکیوں کو روکنا چاہتا ہے جو داخلی سلامتی، معاشرتی استحکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس تازہ اقدام کو ان کی سخت امیگریشن پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جس پر عالمی سطح پر بحث اور ردعمل متوقع ہے، خصوصاً ان ممالک میں جن کے شہری بڑی تعداد میں تعلیم، ملازمت اور خاندانی بنیادوں پر امریکا کا رخ کرتے رہے ہیں۔