طالبان قیادت کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش سے مماثل، طالبان کا تعلیمی نظام عالمی سلامتی کے لیے نیا خطرہ قرار
واشنگٹن — امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے طالبان کی قیادت، بالخصوص شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکمت عملی کو القاعدہ اور داعش جیسی انتہا پسند تنظیموں سے مشابہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو ایک بڑے اور طویل المدتی خطرے سے خبردار کر دیا ہے۔
جریدے کی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط بدستور قائم ہیں، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا جلد ایک ایسی نئی نسل کا سامنا کرے گی جو عالمی جہاد کو دینی فریضہ سمجھتی ہوگی اور شدت پسندی کو نظریاتی ذمہ داری کے طور پر اپنائے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے مدرسوں اور تعلیمی اداروں کو منظم انداز میں نظریاتی ہتھیار میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں نوجوانوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ طالبان کے زیر انتظام تعلیمی نظام میں تعلیم کو علم و آگہی کے بجائے اطاعت، سخت گیر سوچ اور شدت پسندی کی ترغیب دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق 2021 کے بعد مدارس کے نصاب میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں، جن کا مقصد طلبہ کو عالمی جہادی نظریے کے لیے تیار کرنا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے پیش کی جانے والی اسلام کی تشریح نہ تو افغان اور نہ ہی پشتون روایات کا تسلسل ہے، بلکہ یہ ایک درآمد شدہ، آمرانہ اور انتہا پسند نظریہ ہے۔
امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ طالبان کا اصل مقصد تعلیم نہیں بلکہ نظریاتی اطاعت گزاری پیدا کرنا ہے، جہاں سوال کرنے، تنقیدی سوچ اور فکری آزادی کی کوئی گنجائش نہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر عالمی برادری نے اس رجحان کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والے برسوں میں طالبان کے زیرِ اثر تیار ہونے والی نسلیں عالمی سطح پر عدم استحکام، تشدد اور انتہا پسندی کو فروغ دے سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ طالبان حکومت محض ایک مقامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی سیکیورٹی چیلنج بنتی جا رہی ہے، جس کے اثرات مستقبل میں کہیں زیادہ گہرے اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔