ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی وزیراعلیٰ کے خاتون کا نقاب ہٹانا عزت اور شناخت پر حملہ قرار دے دیا

0

نیویارک — انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک خاتون کا نقاب ہٹانے کے واقعے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے خواتین کی عزت، خودمختاری اور شناخت پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار کا یہ عمل نہایت شرمناک اور ناقابل قبول ہے۔ تنظیم کے مطابق کسی بھی خاتون کے لباس یا ظاہری شناخت میں زبردستی مداخلت کرنا اس کی ذاتی آزادی اور وقار کی صریح خلاف ورزی ہے، اور کسی فرد یا عہدے دار کو ایسا کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ خواتین کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کو فروغ دیتا ہے اور صنفی مساوات کے اصولوں کی نفی کرتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے واضح کیا کہ عوامی عہدوں پر فائز افراد سے زیادہ ذمہ دارانہ رویے کی توقع کی جاتی ہے، جبکہ اس واقعے نے طاقت کے غلط استعمال کی مثال قائم کی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے زور دیا کہ بہار کے وزیراعلیٰ کے اس اقدام پر واضح جوابدہی ہونی چاہیے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ تنظیم نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ایسے واقعات خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بھارت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔

دوسری جانب، خاتون کا نقاب کھینچنے کے واقعے پر بھارتی سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور مختلف انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین نے اس عمل کو کھلی ہراسمنٹ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے خلاف قانونی کارروائی اور مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جہاں صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ایک وزیراعلیٰ خود خواتین کی عزت پامال کرے تو عام خواتین کے تحفظ کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ بھارت میں خواتین کے حقوق، سیاسی اخلاقیات اور اقتدار کے استعمال پر ایک سنجیدہ بحث کو جنم دے رہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.